(ایک وصیت، ایک کہانی، ایک خاموش پکار)
میں سوچتا ہوں
کہ اپنی ناکامی پر ایک کتاب لکھوں،
اور اس کتاب کے پہلے صفحے پر
صرف تمہارا نام لکھوں۔
عنوان ہو:
"محبت، تیرے نام"
اور انتساب میں وہ سارے
ادھورے خواب لکھوں —
جو ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے،
اور نیند نے چرا لیے۔
تمہارے ساتھ گزرے ہر لمحے کو
میں کیسے "عذاب" لکھوں؟
جب وہ لمحے، چاہے درد کے ہوں،
میرے دل کے سب سے خوبصورت خزانے ہیں۔
جسے چاہا جائے،
اس کی ہر عادت،
اس کا ہر سکوت،
قابلِ خیال ہوتا ہے
قابلِ سزا نہیں۔
میں کیسے الزام دوں
کسی ایسے کو
جس کے لیے میں نے خود کو مٹا دیا؟
کتاب کے آخری باب میں
میں لکھوں گا:
"یہ میری وصیت ہے"
کہ اگر کبھی
میری آنکھیں نم ہوں
تو سمجھ لینا
وہ تمہاری یاد میں بھیگی ہوئی زمین ہے،
جہاں صرف تمہارا نام اگتا ہے۔
میں وہ ساری ان کہی باتیں لکھوں
جنہیں تم نے سنا،
مگر کبھی سمجھا نہیں۔
میں وہ سارے رشتے لکھوں
جنہیں تم نے چھوڑا،
مگر میں نے آج بھی تھاما ہے۔
میں لکھوں:
"اعتماد وہ درخت ہے
جس کی جڑیں دھوکے میں بھی پناہ دیتی ہیں،
اور تم...
تم نے اسے اپنی خامشی سے کاٹ دیا۔"
میں لکھوں:
"احساس وہ دیا ہے
جو اندھیرے میں بھی روشنی مانگتا ہے،
اور تم نے...
میرے دن میں راتیں بو دی تھیں۔"
لیکن سب کے بعد،
میں لکھوں گا
ایک سطر خاموشی کی
ایک دعا کی شکل میں:
"محبت اُسے دعائیں دیتی ہے
جو ہجر کا عذاب سہہ لے
اور کہے
‘کوئی بات نہیں’"
یہ نظم، یہ کتاب،
یہ ہر سطر، ہر درد،
سب تمہارے نام
کہ تم میری شکست نہیں تھے،
میری آخری سچائی تھے۔