کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک افسوسناک واقعے نے سندھ پولیس کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جب خیرپور کے معروف ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر مہمیر علی تنیو کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ واقعے کی تفصیلات اور پس منظر نے عوامی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
- ڈاکٹر مہمیر تنیو نوشہرو فیروز کے تعلقہ کنڈیارو کے گاؤں تنیا بقا شاہ کے رہائشی تھے اور خیرپور میں "فیؤ ہیئر سینٹر" کے نام سے کلینک چلاتے تھے۔
- وہ اپنے کلینک کے لیے 14 سے 15 لاکھ روپے مالیت کے آلات خریدنے کراچی آئے تھے اور دو دن جوہر کمپلیکس میں اپنے بھائی کے پاس قیام کے بعد شہر گئے — مگر واپس نہ لوٹے۔
- اہل خانہ کے مطابق گلشن اقبال پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران بڑی رقم دیکھ کر رشوت طلب کی، اور انکار پر انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
- پولیس نے لاش کو ایدھی سینٹر، سہراب گوٹھ میں لاوارث کے طور پر جمع کرا دیا، اور اہل خانہ کو اطلاع دینے سے گریز کیا۔
- بعد ازاں ایدھی سینٹر انتظامیہ نے خود مقتول کے گھر والوں سے رابطہ کیا اور لاش کی حوالگی کی تصدیق کی۔
پولیس کا مؤقف اور عوامی ردعمل
- گلشن اقبال تھانے کی پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر مہمیر ایک ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں مارے گئے۔
- اہل خانہ نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مہمیر کا کوئی جرائم پیشہ پس منظر نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی مقدمے میں نامزد تھے۔
- پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری اور ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
تازہ ترین پیش رفت
- انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
- واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کے لیے جوڈیشل انکوائری کی آواز بلند ہو رہی ہے۔
- سیاسی حلقوں میں بھی واقعے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اسے پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر مہمیر تنیو کا قتل نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے بلکہ یہ واقعہ پولیس نظام میں اصلاحات، شفافیت اور جوابدہی کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ مستقبل میں مزید بے گناہوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔