لياری گينگ وار پارٹ ونُ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

لياری گينگ وار پارٹ ونُ


بے نظير بھٹو کو جان ليوا حملے  کے بعد با حفاظت

 بلاول ھاؤس   پہنچانے والا رحمان  ڈکيت  پيپلز پارٹی سے کيوں خائف ہوا ؟؟"

"رحمان ڈکيت  کا  ڈاکٹر ذولفقار مرزا سے کيا تعلق تھا ؟؟  "

تحرير :رفعت سعيد 

18اکتوبر کا دن ايک خاص دن تھا جب بے نظیر بھٹو جنرل پرويز مشرف کی 

ناراضگی مول ليکر وطن واپس لوٹ رہيں تھيں ، 

کراچی ميں انکے استقبال کی تيارياں عروج پر تھيں ، پيپلز پارٹی کا گڑھ تصور کئے جانے والے لياری ميں جگہ جگہ استقبالی بئیر آوازاں تھے ، بے نظير بھٹو کی حفاظت کے لئے ، بنائی گئی فورس کو "جاں نثاراں نے نظير"کا نام ديا گياتھا ، اسکی کمان  لياری انڈر ولڈ ڈان ، سردار  عبدالرحمن بلوچ عرف  "ڈکیت " کے پاسں تھی ،

ہتھيار بند  لياری گينگ وار کے لڑکے  بے نظير بھٹو کے استقبال کے لئے مکمل تيار تھے، مجھے يہ تحرير قلمبند کرنے کا خيال لياری گينگ وار پر بنے والی  بھارتی فلم اس ميں رحمان ڈکيت اور چودھری اسلم کے کرداروں کو ديکھ کر آيا ۔

جرمنی کے معروف  نيوز ميگزين   ڈيئر اشپيگل کی خاتون ايڈيٹر جو ميری پرانی واقف تھيں انہوں نے  بے نظير بھٹو کی آمد سے ايک ہفتہ قبل  فون پر کہا کہ وہ دبئی سے  کراچی کا سفر  اور انکا انٹرويو  طيارے ميں کرنا چہاتی ہيں ، 

ميں نے  برطانيہ ميں پاکستان کے ہائی کمشنر اور محترمہ کے مشير خاص واجد شمسں الحسن مرحوم کے ذريعے  اس ايڈيٹر کے  سفر کو يقينی بنايا ، 

اٹھارہ اکتوبر 2007  کو  جب  بے نظير بھٹو کراچی ائیرپورٹ پہنچيں  تو  ہزاروں کی تعداد ميں کارکن اور رہنما اپنی قائد کی ايک جھلک ديکھنے کے لئے بے تاب تھے ، 

اس روز انکی حفاظت  کے ذمہ دار "جانثاران 

 بے نظير "کے نام سے قائم فورس کے جوان تھے ،  بے نظير بھٹو کے ٹرک کے اندر اور اطراف  سروں پر سفيد پٹی باندھے نوجوانوں کا کمانڈر اور انچارج  "رحمان ڈکيت تھا "جبکہ پوليس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے  کی ذمہ داری  رحمان ملک کی تھی،  جبکہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا  اور آغا سراج درانی ، رحمان ڈکيت کوقفے وقفے سے  ہدايات دے رہے تھے ، 

 جلوس  شاہراہ فيصل پر رواں دواں تھا ، "رحمان ڈکيت "اور اسکے رضا کار لڑکے  بے نظير بھٹو کے ٹرک کے ساتھ چل رہے تھے رات آٹھ يا 9  بجے کا وقت  ہوگا ايک زور دار دھماکہ ہوا  ہر طرف آگ اور خون تھا ، ميں اس ٹرک سے ذرا فاصلہ پر ،" ڈيئر اشپيگل"  کی خاتون ايڈيٹر  کے ہمراہ موجود تھا ، جرمن خاتون صحافی  بے نظير کے ٹرک کے قريب جانا چہاتی تھيں مگر ميں نے انہيں آگے بڑھنے سے روک ديا ، 

جائے حادثہ پر قيامت کا منظر تھا آگ ، خون اور لاشيں ہر طرف بکھری ہوئی تھيں ، ھلاک ہونے والوں ميں لياری  کے لوگوں کی اکثريت تھی،  

افراتفری  اور زخميوں کی چيخ پکار ميں ايک" لينڈ کروزر  "بے نظير  بھٹو کے  ٹرک کے قريب لگائی گئی رحمان ڈکيت اور اسکے  لڑکوں نے  حفاظتی حصار بنايا  "رحمان  خود آگے آگے تھا ، بے نظير بھٹو  کو باحفاظت ٹرک سے کاڑی ميں منتقل کروانے کا فريضہ  رحمان ڈکيت نے انجام دياہے  ، 

اس دوران زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، ميں اے آر وائی ٹی وی ہميشہ مسکرانے والے کيمرہ مين عارف خان خون ميں لت پت ديکھا جسے ايمبولينس ميں منتقل کيا جارہا تھا ، نا قابل بيان مناظر تھے ، 

دوسرے  روز ۱۹ اکتوبر کو  "ڈیئر اشپيگل کی ايڈيٹر نے  بے نظير بھٹو سے ملاقات کی خواہش  ظاہر کی ، ميں نے بلاول ھاؤس سے رابطہ کيا تو معلوم ہوا کہ بے نظير بھٹو  زخميوں کی عيادت کرنے اسپتال جانے کے لئے نکل رہی ہيں ، وہ طوفانی طور پر اسپتال گئيں ، زخميوں کی عيادت کے بعد وہ لياری گئيں ھلاک ہونے والوں  کے ورثہ سے مليں ،

  بعد ازاں شام کو بلاول ھاؤس کراچی ميں انہوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس ميں آمريت اور جنرل مشرف کے سامنے ڈٹ جانے کا اعلان کيا ، 

بے نظير بھٹو غيرملکی زرائع ابلاغ کی اہميت سے بہ خوبی آگاہ تھيں وہ  جرمن پاليسی ساز ميگزين کی اہميت اور افاديت سے بھی واقف تھيں ميری درخواست پر وہ جرمن صحافی خاتون سے کچھ دير گفتگو پر آمادہ ہوگئيں ،پريس کانفرنس کے بعد انہوں نے مجھے اور  صحافی خاتون کو اپنی سيکريٹری ناھيد خان کے ذريعے بلاول ھاؤس کے رہائشی حصہ ميں بلواليا ، 

اسی روز  صحافی  خاتون نے خواہش  کی کہ وہ لیاری جا کر جاں بحق ہونے والے اور زندہ بچ جانے والے لوگوں کے اہلِ خانہ سے بات کرنا  چہاتی ہيں ،

  اس وقت کے حالات ميں کسی  غیر ملکی خاتون صحافی  کو لياری کی تنگ تاريک گليوں ميں ليکر جانا ايک انتہائی مشکل کام تھا ميں نے  لياری کی معروف سماجی شخصيت ظفر بلوچ  مرحوم کے ذریعے لیاری کے اندرونی علاقے میں چند خاندانوں سے ملاقات طے کروائی ۔

ميں اور جرمن صحافی  خاتون لياری پہنچے تو لی مارکيٹ سے موٹر سائيکل پر سوار دو لڑکوں  نے ہماری رہنمائی کی  يہ لڑکے تنگ گلیوں سے  گزار کر ہميں ايک چھوٹے سے گھر ميں لے گئے  ، ہماری آمد پر اس محلہ کے مرد خواتين اور بچے وہاں جمع ہو گئے تھے ،

ایک غير ملکی دراز قد خاتون کو وہاں ديکھ کر لوگوں کا جمع ہونا فطری عمل تھا ،وہاں موجود  بعض بزرگ چہروں پر افسوس اور کرب نماياں تھا اس علاقے کے کئی نوجوان  خودکش حملے ميں ھلاک ہوئے تھے ۔

ہمیں ایک چھوٹے سے گھر میں ليجايا گیا جہاں بزرگ خواتین اور ضعیف مرد موجود تھے،

اسکے بعدہمیں ایک اور سادہ سے گھر میں لے جایا گیا جہاں مزيد بزرگ خواتین  موجود تھيں ،یہ سب خودکش دھماکے  میں جاں بحق ہونے والوں کے قریبی رشتہ دار تھے۔ وہ جو کہہ رہے تھے  وہ ريکارڈ کيا جارہا تھا مگر  لواحقين کے چہروں پر کوئی شکوہ نہ تھا، بلکہ وہ اپنے نوجوان بیٹوں کی موت کو بے نظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانی سمجھ رہے تھے ۔

تھوڑی دير ميں  موٹرسائکل پر ايک لڑکے نے آکر  مجھے کہا کہ  ظفر بلوچ نے ايک گھر ميں  آپ کے لئے چائے کاانتظام کيا ہے  مگر 

  جرمن خاتون صحافی  اب وہاں سے  واپس ہوٹل جانا چہاتی تھی، مگر   ظفر بلوچ کی خواہش پر ہم وہاں گئے  کچھ  خواتین اور بزرگ موجود تھے ، بعد ميں معلوم ہوا کہ وہ گھر رحمان ڈکيت کی خالہ کا گھر تھا اور اسکے کئی قريبی رشتہ دار خواتين اور خاندان کے  بزرگ وہاں موجود تھے ، وہ سب بے نظير بھٹو پر اولاد تو کيا اپنی جان نثار کرنے پر آمادہ تھے  اسی لئے  رحمان ڈکيت کے گروپ کے لڑکوں  کو "جان نثاران نے نظير " کا نا ديا گيا تھا ۔کچھ عرصے بعد ظفر بلوچ نے مجھے بتایا کہ جس گھرمیں ہم گئے تھے وہ دراصل رحمان ڈکیت کی خالہ کا گھر تھا ، اور جن لوگوں سے ملاقاتيں ہوئيں تھيں وہ سب  سردار عبدالرحمن بلوچ  عرف ڈکيت  کے قریبی رشتہ دار تھے

رحمان ڈکيت کے جانشین نوجوان اور لياری انڈر ولڈ کے نئے سربراہ عزیر بلوچ سے اکثر ملاقاتيں ہوتی تھيں وہ اس وقت بھی بہ ظاہر سلجھا ہوا نوجوان لگتا تھا مگر سفاک تھا انتقام  اسکی  آنکھوں سے جھلکتا تھا ، اس کی   تفصیل پھر کبھی۔