مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طبل بج گیا

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طبل بج گیا

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طبل بج گیا


 ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، خطہ دہک اٹھا

مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں! امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مشترکہ کارروائی (آپریشن 'ایپک فیوری' اور 'رورنگ لائن') کے بعد پورا خطہ میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں خلیجی ممالک میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

میدانِ جنگ کی صورتحال:

 ایران پر حملے: اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں 201 افراد جاں بحق اور 747 زخمی ہوئے۔

 ایرانی جوابی کارروائی: ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں، قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب اور یو اے ای کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون داغے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، 14 امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

  جانی و مالی نقصان: ایران کے شہر لِمِرد میں ایک ہولناک واقعے میں 20 خواتین والی بال کھلاڑی جاں بحق ہو گئیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے 3 ارکان کی ہلاکت بھی تصدیق شدہ ہے۔

  قطر میں تباہی: ایران نے قطر پر 44 میزائل اور 8 ڈرون داغے، جس سے ایک ابتدائی وارننگ ریڈار مکمل تباہ ہو گیا۔

سفارتی ہلچل اور عالمی ردعمل:

  پاکستان کا مؤقف: وزیراعظم شہباز شریف متحرک! انہوں نے سعودی ولی عہد، امیر قطر اور یو اے ای کے صدر سے ہنگامی ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور یو اے ای میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتکاری کے ذریعے حل نکالنے پر زور دیا ہے۔

  خلیجی ممالک: کویت نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا۔ یو اے ای میں پام جمیرہ پر ایرانی حملے میں 4 افراد زخمی جبکہ فجیرہ ایئر بیس پر دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

  عالمی طاقتیں: ترکی، چین اور روس نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستانی شہریوں کیلئے ایڈوائزری:

تہران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے صورتحال کو "انتہائی تشویشناک" قرار دیا ہے۔

  انٹرنیٹ کا مسئلہ: ایران میں مواصلاتی نظام درہم برہم، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث رابطے مشکل ہو گئے ہیں۔

  ہدایت: تہران کی سڑکوں پر ٹریفک جام اور افراتفری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

صورتحال کی سنگینی:

ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ اسرائیل اور امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے ناگزیر تھی۔ خطے میں امن کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔