کراچی، عرفان علی
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ایف بی آرکو لوگوں
کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔سرمائے کا
کوئی مذہب، جغرافیائی اور حد نہیں ہے۔سرمایہ
کار کو جہاں منافع نظر آتا ہے،، وہاں کا رخ کرتا ہے۔
کراچی میں اوور سیز چیمبر آف کامرس کے ارکان سے
خطاب میں کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور مالی مسائل کے سبب ہم مسائل حل نہ
کرسکے ۔ہم نے کیا وعدے کئے، کیا حاصل کیا اور کیا نہیں کرسکے۔ معیشت کا جائزہ لے کر وزیراعظم کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ہم سمت کا تعین
کریں گے۔توانائی ، زراعت ، انڈسٹریز اور سی پیک کو فوکس کیا ہے ۔ وہ کمیٹیوں پر یقین
نہیں رکھتے۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں بہتر
ہونگی تو تاجر سرمایہ کاری کریں گے۔شوکت ترین نے کہا کہ صنعتکاروں کے کچھ تحفظات
تھے ،،انہیں دور کردیا ہے۔معاشی بہتری کے لیے طویل ،مختصر اور درمیانی مدت کے منصوبے
بنائے ہیں۔ صنعتی ترقی کے لیے بھی اہم فیصلے
کئے ہیں۔ ٹرن اوور ٹیکس اور دیگر مسائل کو
بھی فوکس کیا ہے۔ ریفنڈ کے مسائل کو بھی
حل کیا جارہاہے۔ ایف بی آر پوائنٹ آف سیل
کے معاملے پر تیزی سے پیش رفت کررہاہے۔