ملزم پکڑے جاتےہیں، اور اکثر
چھوٹ جاتےہیں۔۔۔کراچی پولیس کا تفتیشی نظام ناقص کیوں ہے ؟ہم نیوزنےکھوج لگالیا۔۔۔کروڑوں کی
آبادی والے شہرمیں مقدمات کی تفتیش کرنےوالےافسران کی تعدادایک ہزاربھی نہیں
سالانہ درج مقدمات کی تعداد 50ہزار سے
زائد۔۔۔تفتیش کرنے والے ایک ہزار بھی نہیں۔۔۔
کراچی پولیس چیف کے حکم پر ڈی آئی جی کی
سربراہی میں تین رکنی ٹیم نے تفتیشی نظام
کا جائزہ لیا تو حیران کن حقائق سامنے آگئے۔۔۔تحقیقات میں پتہ چلا کہ کراچی پولیس میں 1تفتیشی افسر اوسطا 55 مقدمات کی تفتیش
پر مامور ہے۔۔۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کراچی بھر میں مقدمات کی تفتیش کے لئے 3ہزار
476افسران کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ تعداد محض 985 ہے۔۔۔ پولیس کے تفتیشی نظام کا
جائزہ لینے والی کمیٹی نے نفری میں فی
الفور اضافے کی تجویز بھی دی ہے
رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس کے شعبہ تفتیش میں کانسٹیبل سے ڈی ایس پی رینک تک
افسران واہلکاروں کی موجودہ تعداد3ہزار
469 ہے ۔ کمیٹی کی رائے میں یہ تعداد 6ہزار 4سو 59 ہونی چاہئیے۔۔۔اعدادو شمار
بتاتے ہیں کہ انوسٹی گیشن برانچز میں موجودہ اور
مجوزہ عملے کے تعداد میں 2990 کا
فرق ہے۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ معمولی جرائم ہوں یا سنگین۔۔۔ناقص تفتیش کے
باعث فائدہ براہ راست ملزم کو پہنچتا ہے اور
عدم ثبوت وشواہد کی بنیاد پر
ملزموں کا ضمانت مل جاتی ہے یا مقدمات سے بری ہوجاتے ہیں