سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں نوک جھوک جاری رہی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں نوک جھوک جاری رہی

سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں نوک جھوک جاری رہی ۔۔ارکان ایک دوسرے کو طعنہ دیتے رہے ۔۔ ایوان میں معاون خصوصی کو اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے کا اختیار مل گیا۔۔ جس پر اپوزیشن اراکین نے  شدید احتجاج کیا ۔

صوبائی اسمبلی اجلاس حسب روایت سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔۔ وقفہ سوالات میں صوبائی وزیر جنگلات تیمور تالپر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اپوزیشن اراکین سے الجھتے رہے

 تیمور تالپور:مجھے نہیں پتا آغا صاحب نے اجازت دی آپ کو۔فردوس شمیم نقوی:آپ تمیز سے بات کرنا سیکھیں ۔تیمورتالپور:ایسے کم عقل لوگ ہی پی ٹی آئی کو ملتے ہیں ۔جب نائن زیرو کا ڈیٹا انٹری رپورٹرجو لکھتا تھا کتنے لوگ مرگئے کتنے ہیں وہ بھی وہیں سے ہوتا تھا

ایوان نے اسمبلی کی کارروائی کے ضابطہ کار میں ترمیم کردی۔ اب معاون خصوصی بھی ایوان میں سوالات کے جواب دے سکتے ہیں,  اپوزیشن نے ترمیم پر شدید احتجاج کیا

جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے  سندھ میں  18 معاون خصوصی  کی  تعیناتی پر توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا یہ سندھ کے عوام کے پیسے پر بوجھ ہے انہیں ہٹایا جائے۔۔

جواب میں مکیش کمار چاولہ نے کہا رولز کے مطابق معاون خصوصی تعینات کیے, وفاق کی طرح باہر سے امپورٹ  نہیں کیے۔

یہ عوام کے نمائندے ہیں ہم باہر سے امپورٹ کرکے نہیں لاتے ۔آپ باہر سے مپورٹ کرکے لاتے ہو یہ اسپیشل اسسٹنٹ جو ملا لگادیا امپورٹیڈ مال بات کرتےہوہم سے

سندھ انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسکوپ اینڈ گیسٹرولاجی کا بل بھی اسمبلی میں متعارف کرادیا گیا۔ اسپیکر نے بل اسٹیرنگ کمیٹی کو بھیج کر اجلاس پیر کی دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا۔