کراچی،کورنگی میں جعلسازی سے دو ارب مالیت کی چار ایکڑ زمین نام کرانے کا معاملہ

عرفان علی عرفان علی

کراچی،کورنگی  میں جعلسازی  سے   دو ارب مالیت کی چار ایکڑ زمین نام کرانے کا معاملہ

کراچی،کورنگی  میں جعلسازی  سے   دو ارب مالیت کی چار ایکڑ زمین نام کرانے کا معاملہ۔ ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل نے  معاملے کا نوٹس لینے کے لئے وزیراعلی سندھ کو خط لکھ دیا۔

ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل  پاکستان کی جانب سے وزیراعلی سندھ   کو بھجوائے گئے خط کے مطابق کورنگی مین روڈ کے سنگم  پر چار  پلاٹ  نکال  کر غلط اندراج کے ذریعے ممتاز عمر نامی شخص کے نام  کئے گئے۔کورنگی کریک کنٹونمنٹ انتظامیہ   نے چوبیس  اگست دوہزار بیس  کو بورڈ آف  ریونیو سندھ کو  اس حوالے سےخط لکھا۔خط میں نشاندہی کی گئی کہ کورنگی گیارسو روڈ پر کوئی پلان منظورنہیں کیا گیا۔ وہاں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کا نوٹس لیا جائے۔ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل   کے مطابق  ڈائریکٹر سندھ بورد آفس ریونیو نے کورنگی کریک انتظامیہ  کی شکایت  ڈی سی کورنگی کو  ارسال کی ۔ گیارہ اکتوبر  دوہزار بیس کو   اینٹی کرپشن  سندھ نےمختیارکار کورنگی سب ڈویژن کو خط لکھا۔ خط  میں  چار ایکڑ زمین  ننانوے سالہ  لیز پر دینے والے ریونیو افسران  کے خلاف انکوائری کا کہا گیا تھا۔ٹرانسپرینسی    پاکستان نے وزیراعلی سندھ کو خط میں کہا ہے کہ    اب  تک چار  ایکڑ زمین کا اندراج منسوخ  اور  تعمیرات رکوانے کی کارروائی نہیں ہوئی۔ ٹرانسپیرنسی پاکستان نے وزیراعلی سندھ سے کہا ہے کہ وہ  زمین کے غیرقانونی اندراج کے الزامات کا  جائزہ لیں۔ الزامات صحیح ثابت ہوں تو تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔