پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہناہےکہ اپنی بقا کے
لئے سیٹیں بچانے کے لئے اسی طرح کی قانون سازی کی جائے گی، ای وی ایم وٹینگ مشین
دھاندلی اور جعل سازی کا نیا طریقہ کار ہے،
مریم نواز نے
کہاہے کہ دھاندلی کرکے آنے والے اراکین کس طرح کی قانون سازی کریں گے سب جانتے ہیں،
اور جو لوگ
جعل سازی سے آتے ہیں وہ قانون سازی بھی اپنے بچاؤ کے لئے کرتے ہیں،
نواز شریف کو
پابند سلاسل کیا گیا تو میر شکیل الرحمان کو بھی پابند سلاسل کیا گیا
اگر مریم
نواز نے جیل کاٹی ہے تو حامد میر نے بھی جسم میں گولیاں کھائی ہیں۔
ان کا
کہناتھاکہ ندیم ملک نے میرا انٹرویو دس منٹ کیا اس کی وجہ کیا تھی ، عرفان صدیقی
کو جیل میں رکھا گیا۔
استادوں کی
اس طرح عزت کی جاتی ہے۔
لاکھوں
کروڑوں عوام کے ساتھ صحافیوں کو نوکری سے نکالا گیا ان کے گھروں میں فاقے ہیں
سیاستدانوں
نے قربانیاں دی ہیں تو صحافیوں نے بھی قربانی دی ہیں
جہاں ایسے
قانونسازی ہو وہاں اپوزیشن سے کہنا چاھتی ہوں کہ پارلیمنٹ کا قانون تبدیل نہیں کیا
جاسکتا
لیکن جب
حکومتی ارکان یہ کہیں کہ ھمیں لایا گیا ہے تو ایسی صورت میں تمام اپوزیشن پارٹیاں
اکٹھا ہوکر جعلی قانونسازی کے خلاف کورٹ سے رجوع کریں۔
سابق چیف
جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ایک بیان حلفی سامنے آیا۔۔
جنہوں نے
ثاقب نثار کو پریشرائئز کیا، شوکت عزیز صدیقی کو گھر جاکر دبایا
ارشد ملک کو
پرانی ویڈیو دکھا کر مرضی کے فیصلے لئے گئے
اب پاکستانی
قوم کو ھر ادارے کے پریشر کو نہیں مانیں گے
ان اداروں پر
بات کریں تو غدار قرار دیتے ہیں۔
ثاقب نثار
والے ایشو کے بعد ہمیں سبق سیکھنا چاہئے کہ ہم نے بلیک میلنگ کو نہیں ماننا،
آج جو بھی
بلوچستان کے حق کی بات کرتا ہے اسکو غدار قرار دیا جاتا ہے،
بلوچستان کے
لئے میں نے ایک ٹوئیٹ کیا جس میں جسٹس فار بلوچستان ایک بینر میں لکھا تھا اس پر
مجھے انڈیا کا ایجنٹ قرار دیا گیا
اگر آج
بلوچستان کی بات کریں تو اس کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔۔اس وجہ سے وہ ٹوئیٹ ڈیلیٹ
کرنی پڑی
اگر قانونساز
بھیک لے کر آئینگے تو ایسی قانونسازی کرینگے جس سے سازشیوں کو تحفظ دے۔
آج ھم دیکھ
رہے ہیں کہ ان کی کارکردگی بری ، ان کو پتہ ہے کہ ھم ھار رہے ہیں۔۔
پہر بھی ایسے
قانون سازی کررہے ہیں۔۔
سمندرر پار
پاکستانی میرے لئے محترم ہیں وہ ووٹ کا حق لینے سے پہلے بائیس کروڑ پاکستانیوں کا
خیال کریں
جو عوام کے
ووٹ سے اتے ہیں وہ عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں
جو بخشش سے
اقتدار میں اتے ہیں وہ ان کے لئے قانونسازی کرتے ہیں
مریم نواز نے کہاہےکہ اس نالائق اور ظالم حکومت نے اپنے
نالائقی کو چھپانے کے لئے میڈیا کو روکنے کے لئے قانونسازی کی جس کا نام میڈیا ڈیولپمنٹ
اتھارٹی بنائی گئی۔۔
دنیا میں پہلی
بار آواز کو دبانے کے ڈیولپمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔
اگر سچ سے
ڈرتے نہیں تو میڈیا پے قدغن نہ لگائیں
پانامہ کیس میں
ھماری حکومت کے خلاف چار ھزار شوز کئے گئے
میرا لنک اسد
طور سے تعلق ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی
اسد طور کو
جب تشدد کا نشان بنایا گیا تو ھم پی ڈی ایم والے ان ہے گھر گئے اس دن میرا اسد طور
سے پہلا تعلق ہوا
صحافیوں کو
نوکریوں سے نکال لیا جاتا ہے ، صحافیوں کو جس دن اٹھایا جاتا ہے اس دن سیف سٹی کے
کیمرا بھی بند ہو جاتے ہیں
اس ملک کو
جادو ٹونے سے ملک چلایا جاتا ہے
ڈی جی آئی ایس
آئی کی تقرری اس لئے روکی گئی کیونکہ موکلوں نے وقت صحیح قرار نہیں دیا
عاصمہ شیرازی
نے جب یہ بات کی تو اس کے ساتھ کیا ہوا
میں اس خاتون
کا نام نہیں لوں گی ، عمران خان جادو ٹونے پر یقین رکھتا ہے اس کا نام لینا چاھیئے
انکا کہناتھاکہ ھم روز ملک کی
تنزلی کا سفر دیکھ رہے ہیں
جو سچ بولتےہیں
ان کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا
جو مردہ ضمیر
ہوتے ہیں تو ان کو تھپکی ملتی ہے۔
کیا ھم ایک
آزاد ملک ہیں
ھم اتنے ہی
آزاد ہیں جتنا ھمار پریس آزاد ہے
پانچ سال سے
ھمیں ریاست مدینہ اور حضرت عمر کی باتیں سنتے آرہے ہیں
آج یہاں اگر
سچ بیان کرنے کی بات کی جاتی ہے تو حامد میر کو نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے
ابصار عالم
پر گولیاں چلائی جاتیں ہیں۔۔مطیع اللی جان کو اٹھا لر لے جاتےہیں
یہ نوجوان
حکمران اور ریاست سے تعلیم کا حق مانگ رہے ہیں۔
اسلامی جمعیت
طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ کو کوڑو کی سزا سنائی گئی۔
لیکن اس نے
اپنا عظم نہیں چھوڑا۔
یہ اسلامی
جمعیت طلبہ ہے جس نے ختم نبوت میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عبد
القدیر خان بھی جمیعت کا تحفہ تھا۔
چند گز کے
فاصلے پر وزیراعظم کو توفیق نہیں ہوئی شرکت کی۔
کیا ھم ایک
آزاد ملک ہیں
ھم اتنے ہی
آزاد ہیں جتنا ھمار پریس آزاد ہے
پانچ سال سے
ھمیں ریاست مدینہ اور حضرت عمر کی باتیں سنتے آرہے ہیں مریم نواز نے کہاکہ
آج یہاں اگر
سچ بیان کرنے کی بات کی جاتی ہے تو حامد میر کو نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے
ابصار عالم
پر گولیاں چلائی جاتیں ہیں۔۔مطیع اللی جان کو اٹھا لر لے جاتےہیں
اگر حکومت کے
222 ووٹ کراس نہیں کرتے تو وہ پاس نہیں کروا سکتے