کراچی میں شہری ڈاکووں
کے رحم و کرم پر۔رواں سال کےابتدائی دوماہ میں پولیس اہلکاراورصحافی سمیت
اٹھارہ افرادڈاکووں کےہاتھوں قتل ہوئے۔ فروری میں دوخواتین سمیت چونسٹھ شہریوں
کولٹیروں نےفائرنگ کرکےزخمی کیا۔مبینہ مقابلوں میں پولیس نے چھ مبینہ ڈاکووں کوہلاک اور ساٹھ ملزموں کوزخمی حالت میں گرفتارکرنےکادعوی کیا۔
کراچی میں لٹیرےہوئے بے لگام۔
اعدادوشمارکےمطابق رواں سال کےابتدائی دوماہ میں
پولیس اہلکاراورصحافی سمیت 18افرادکوڈاکووں نےقتل کیا،ماہ جنوری کے31روزکےدوران
پولیس اہلکاربرکت علی سمیت 11افراد ہدف بنے۔صحافی اطہرمتین ،حافظ قرآن نوجوان سمیت
7شہری ماہ فروری میں جان سےگئے۔
پولیس اعلامیےکےمطابق ماہ فروری میں دوران ڈکیتی
لٹیروں نےفائرنگ کرکےدوخواتین سمیت 64افرادکوزخمی بھی کیا،جبکہ لٹیروں سےتنگ شہریوں
نےبھی بہادردکھائی۔ فروری میں ڈاکووں پرشہریوں کےتشددکےدس واقعات سامنےآئے،، جس میں
دوڈاکوہلاک ،13زخمی ہوئے۔ جوہرآبادمیں ایک مبینہ ملزم ساتھی کی فائرنگ سےہلاک ہوا،
پولیس حکام نے فروری کے28 روزمیں مختلف مبینہ مقابلوں میں چھ ڈاکووں کوہلاک اور60 کوزخمی
حالت میں گرفتارکرنےکادعوی بھی کیا۔