کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز کا
شہریوں سے موبائل فون چھیننا آسان صحیح
،، لیکن اب انہیں بیچنے کے لئے ملزموں کو
خوب پاپڑ بیلنا پڑ سکتے ہیں۔شہر میں موبائل فونز کی خریدوفروخت کے لئے نیا طریقہ کار وضع کرلیا گیا۔ جس کے شناختی کارڈ پر کراچی کاپتہ درج ہوگا ،،،
وہی موبائل فون فروخت کرسکےگا ۔دکاندار
کہتے ہیں فیصلہ مثبت ہے مگر اس سے کاروبار پر اثر پڑے گا۔
کراچی میں شاید ہی کوئی شخص
ہو ۔۔ ۔۔جو لُٹا نا ہو۔۔۔ اوراس سے موبائل فون چھننا نا ہو۔۔
اسٹریٹ کرمنلزکے لئے جھٹ سے موبائل چھیننا اور فٹا فٹ اسے بیچ دینا انتہائی آسا ن تھا۔۔
اسی آسانی کو دشوار بنانے اور
موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں
کمی کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی۔
اب موبائل فون چھینا ہو یا
چوری کیا ہو ۔۔ اسے باآسانی موبائل
فون مارکیٹ فروخت کرنا ممکن نہیں
ہوگا۔۔
کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پولیس اور سی پی ایل سی کے ساتھ مل کر موبائل
فون کی خرید و فروخت کا نیا طریقہ کار
وضع کرلیا۔
جس شخص کے شناختی کارڈ پر
کراچی کا پتہ درج نہیں ،،وہ کسی واقف کار کے ہمراہ آکر اس کے
شناختی کارڈ کی نقل فراہم کرکے ہی
موبائل فون فروخت کرسکے گا۔گزشتہ سال اسٹریٹ کرمنلز نے شہریوں کو 23 ہزار موبائل فونز سے محروم کردیا۔اس صورتحال سے پریشان شہری اور دکانداروں
کا نئے طریقہ کار پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
حکام کہتے ہیں کہ نیاطریقہ کار شہر بھر کی چھوٹی بڑی موبائل مارکیٹوں
میں متعارف کرادیا ہے اورکراچی الیکٹرنکس
ڈیلرز ایسوسی ایشن سے منسلک لگ لگ بھگ دس ہزار دکاندار اس طریقہ پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔حکام پرامید
ہیں کہ نیا نظام متعارف ہونے سے چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کی خرید و
فروخت میں نمایاں کمی آئے گی۔