قلی کی عید

عمران عمران

قلی کی عید

ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں کی تعداد میں مسافر ایک جگہ سے دوسرے جگہ سفر کرتے ہیں ان مسافروں عید کے موقع پراپنے گھروں کو جاتے دیکھ کر قلی بھی اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن معاشی نہ ہمواری کی وجہ سے وہ بچوں سے دور رہنے پر

مجبورہیں

یہ کراچی کا کینٹ اسٹیشن ہے۔جہاں  سے ٹرین کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں  مسافر سفر کرتے ہیں۔


ان مسافروں کو منزل تک پہنچتے ہی ان کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والے قلی عید کے موقع پر بےحد اداس ہیں ۔

اپنوں کے ساتھ عید کا احساس محمد  ادریس کو بھی اندر سے کھائے جارہاہے،

 ایک طرف گھر والوں سے انسیت کا احساس اسے ان سے الگ رہنے نہیں دے رہاہے تو دوسری جانب  نان شبینہ کے انتظام نے اسے ان سے دور رہنے پر مجبور کررکھاہے۔


ٹرین کی پلیٹ فارم پر آمد کا سن کر ولی محمد دیوانہ وار ٹرین کی جانب دوڑا چلا آتاہے۔

اپنے اہل خانہ کےلیے دوقت کی روٹی کمانےکے لیے یہ روزانہ بھاری بھرکرم سامان اپنے کندھوں پر لاد کر اپل خانہ کی خوشیوں سبب تو بنتاہے لیکن عید قریب آتےہی مسافروں کو اپنے آبائی علاقوں کو  جاتے دیکھ اس کی بے چینی میں اضافہ ہوجاتاہے۔


کراچی کے قلی اپنوں کےلیے روزی روٹی کمانے کےلیے اپنوں سے ہی دور رہنے پر مجبور ہیں