کراچی کے علاقے جوبلی میں دن دیہاڑے تین مسلح نقاب پوشوں کا کے ایم سی دفتر پر دھاوا۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی کے علاقے جوبلی میں دن دیہاڑے تین مسلح نقاب پوشوں  کا  کے ایم سی دفتر پر دھاوا۔

کراچی کے علاقے جوبلی میں دن دیہاڑے تین مسلح نقاب پوشوں  کا  کے ایم سی دفتر پر دھاوا۔

ایک مسلح شخص نے گولیاں برسا کر    انکروچمنٹ افسر کی جان لے لی۔

تجاوزات کے   مقدمے میں مقتول آج صبح عدالت پیشی پربھی گیا تھا۔

کراچی کے علاقے جوبلی میں واقعہ انسداد تجاوزات سیل، کے ایم سی کے دفتر میں گھس کر ملزمان نے فائرنگ کردی۔

واقعے میں انکروچمنٹ کے ہیڈ کلرک  محمد علی جاں بحق ہوگئے۔

 مقتول کو سات گولیاں ماری  گئیں۔ انویسٹی گیشن ایس ایس پی سٹی کہتے ہیں جائے وقوعہ سے 30 بور کے چھ خول ملے  ہیں ۔

شواہدآرہے ہیں کہ اس بندے کے تعاقب میں آرہے تھے اسپتال جاتے ہوئے وہ انتقال کرگیا تحقیقات کررہے ہیں کہ وجوہات کیا ہیں

واقعے کے بعد انسدادتجاوزات سیل کے سربراہ بشیر صدیقی نے   کے ایم سی آفس کادورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے آج محمد علی عدالت سے انکروچمنٹ کیس کی پیروی کرکے آفس آیا تھا۔ پہلے آپریشن میں ٹیموں پر حملے ہوتے رہے لیکن یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے کہ آفس میں داخل ہوکر دہشتگردی کی گئی ۔

اس قسم کے واقعات جو لینڈ اینٹی انکروچمنٹ کے ڈپارٹمنٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں آپریشن کے دوران ہم پر فائرنگ ہوئی ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ لینڈ انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ  کے آفس میں گھس کر کسی عہدیدار کو دفتر میں گھس کر مارا گیا ہے

کے ایم سی آفس میں نا تو سی سی ٹی وی کیمرہ نصب  اور نا ہی سیکیورٹی پر کوئی  تعینات ہے ۔مقتول چار بیٹیوں کا باپ اور ناظم آباد کا رہائشی تھا۔