گزشتہ روز بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے رہائشی بالاچ نے ایک زندگی بچانے کی خاطر اپنی زندگی گوا دی ۔
سریاب چکی شاہوانی میں ایک کچرا چننے والا بچہ گہری کاریز میں جاگرا ایسے میں بالاچ نوشیروانی نام کے نوجوان نےاسےبچانے کے لیئے رسی کے سہارے سےاسی کنویں میں اتر گیا
مگر بد قسمت رسی ٹوٹ گئی اور بالاچ بھی اندر جاگرا۔
پی ڈی ایم اے ایمرجنسی کو بلایاگیامائنز ڈیپارٹمنٹ کو مگر انکے پاس گیس سے اور کچرے سے بھرے اس کنویں میں اترنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے
وہ کوشش کرتے رہے مگر ناکام ہوگئے12
گھنٹے بعد مستونگ کھڈکوچہ سے کچھ نوجوان آئے جو کاریزکےنیچے اتر کے ان دونوں کی لاشوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ۔
حکومت اتنے وسائل کے باوجودکیوں ناکام رہی یہ ایک سوالیہ نشان ہے
بالاچ جیسے نوجوان نے جان کی قربانی دیکر یہ ثابت کیا کہ انسانیت اب تک زندہ ہے۔
گزشتہ روز کے واقعے کے تین ہیرو۔بالاچ جس نے بچے کی جان بچانے کےلیئے کاریز میں اترنے کی کوشش میں جان گنوا دی۔
جلیل اور امیر حمزہ جو مستونگ سے آئے اور بغیر حفاظتی آلات کے کاریز میں اتر کے ان لاشوں کو نکالا ۔
حکومتی اہلکار 12 گھنٹے تجربے کرتے رہے۔
بہانے کرتے رہے اور دو عام آدمیوں نے ہمت اور بے خوفی سے لاشوں کا نکال کر یہ بتایا کہ انسانیت اب بھی زندہ ہےحکومت کو بالاچ کےلیےکسی سرکاری اعلان کرنے کی ضرورت ہے اور ان دونوں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کےلیے مالی امداداعلان کااعلان کرنا چاہیے