میں باپ بن گیا


میں باپ بن گیا


کراچی، فریال یاسین

انسانی  بدانتظامی نے ابر رحمت کو زحمت بنادیا۔

کراچی میں  گزشتہ دنوں ہونے والی  رات  کی بارش  میں  کرنٹ لگنےسے تین  جانیں چلی گئیں۔

خوشی کی خبر سننے  کا  منتظر  راحیل  برقی رو  کا شکار ہوکر،، گرا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

اس کی   موت کے صرف دس منٹ بعد اس کے گھر بچے کی ولادت ہوئی۔

کراچی میں گزشتہ روز بادل برسے   تو موسم   دلکش  ہوگیا،،

لیکن  یہ سہانا موسم  راحیل  کے اہلخانہ کو زندگی بھر کا درد دے گیا

۔15 ہزار   تنخواہ پر سیلز مین کا کام کرنے والا  راحیل   کام سے فارغ ہوکر اسپتال میں  زیر علاج  بیوی  سے ملنے  کے لئے خوشی خوشی  گامزن تھا

حسین آباد میں   اسے کرنٹ لگا،،تور وہ گرپڑا۔برقی رو   ،، نے  زندگی سےناطہ  ہی نہیں توڑا ،

،آنے والی اولاد کو دیکھنےکا خواب بھی نوچ ڈالا۔راحیل کی موت کے محض 10 منٹ بعد   اس کی بیوی نےبچے کو جنم دیا۔

غمزدہ اہلخانہ سکتے میں آگئے  کہ   وہ خوشی منائیں یا   ماتم  کریں

کریم آباد کے رہائشی  راحیل کے  خاندان نے   تاحال کسی قسم کی قانونی  کارروائی کرنے یا میڈیا کو بیان دینے سے  انکار کر رکھا ہے۔ا

بتدائی طور پر پولیس نے واقعہ کو حادثہ قرار دیا ہے اور راحیل کو  کرنٹ لگنے کی تصدیق کردی ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ  اگر اہل خانہ نے  مقدمہ درج  نا کرایا،،

تو سرکار کی مدعیت میں پرچہ  درج ہوگا۔ ترجمان کے الیکٹرک  کہتے ہیں  جو کھمبا مبینہ طور پر حادثہ کا سبب بنا،،

  کےالیکٹرک کا نہیں ہے۔ گلشن اقبال میں بھی کرنٹ لگنے سے سومار خان نامی نوجوان جاں بحق ہوا ،

جس کا آبائی تعلق رحیم یار خان سے تھا۔ شیر شاہ شاہین ہوٹل بلاک ڈی میں کرنٹ لگنے سے 28 سالہ امید علی جاں بحق ہوا۔

بارش میں جہاں دنیا بھر میں لوگوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔

 وہیں شہر قائد میں بسنے والے اللہ کی رحمت کو متعلقہ اداروں کی غفلت سے زحمت سمجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 کسی کو گھر سے دفتر جانے کی فکر لگی رہتی ہے تو کوئی شام میں واپس گھر پہنچنے کے خیال سے پریشان ہوجاتا ہے۔

 کوئی اپنے گھر میں پانی داخل ہونے سے اذیت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی دکان میں پڑے سامان کی حفاظت کرنے میں لگ جاتا ہے۔

 لیکن کراچی میں حالیہ بارش میں ایک دل خراش واقعے نے سب کو کو ہلا کر رکھ دیا (سوائے ذمہ داران اور حکمران کے) ۔۔ سب جانتے ہیں کے الیکٹرک  کی غفلت کے باعث ہر بارش میں کرنٹ لگنے سے کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں

لیکن متعلقہ اداروں کے حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔ حالیہ بارش میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

جس افسوسناک واقعے کی بات میں کررہی ہوں۔

 اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ واقعی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں

 حالیہ بارش میں حسین آباد میں 15 ہزار کے لئے دکان میں نوکری کرنے والا 25 سالہ راحیل دکان سے کام ختم کر کے اپنی حاملہ اہلیہ کے پاس اسپتال جا رہا تھا۔

 لیکن اس کا سفر سڑک پر ہی تمام ہوا

۔ موٹر سائیکل سوار راحیل مبینہ طور پر کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا

جس کے انتقال کے کچھ دیر بعد اس کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی۔۔

راحیل کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے بچے کو دیکھنے نکلا تو ہے

 لیکن کسی اور کی غفلت اسے اس خوشی سے محوم کردے گی ۔

 اس رات راحیل کی ہلاکت کی خبر سن کر اس کے گھر میں کہرام مچ گیا ہوگا

لیکن راحیل کے  اہل خانہ نے کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا

نہ ہی واقعے کا مقدمہ درج کروایا

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا راحیل اس ملک کا شہری نہیں تھا؟

 کیا حکومت کو سرکاری مدعیت میں مقدمہ  درج کرکے ذمہ داران کو کیفر کردار تک نہیں پہنچانا چاہیے؟

 کیا اپنے والد کے انتقال کے صرف دس منٹ بعد آنکھ کھولنے والا بچہ اپنے باپ کے خون کا سوال نہیں کرے گا؟