حالیہ بارشوں نے صوبہ سندھ کا نقشہ ہی بدل کررکھ دیا ۔
اس سے کہیں خوف اور پریشانی کی بات یہ بھی ہے اتنی بڑی آبادی کا ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی نے کئی مسائل کو جنم دیا ۔
۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ابھی تو واقعہ نیا رونما ہواہے تو سب ہی اس کار خیر اپنی ہمت اور جوش کے ساتھ مدد کے جذبے سے لگے ہوئے ہیں۔
لیکن دوماہ بعد سردی کی لہر آنا شروع ہوجائے گی اس کے حکومت نے کیا انتظامات کئے ہیں؟
اور کیا سندھ کو یہ سیلاب آخری بار ڈوبنے آیا تھا یا پچھلے سالوں کی طرح سندھ ہمیشہ سے ایسی ہی ڈوبتا دیکھائی دےگا ۔؟
اگر سندھ کی عوام کے ڈیم پر تحفظات تھے تو چھوٹے ڈیم ملک بھر میں کیوں تعمیر نہیں کئے گئے۔؟
کیا ہر سال ہم امدادی کاموں میں مصروف ہونگے امدادی سامان کی بھیک مانگے گے۔؟
ہم کب تک دوسروں کی مدد پر چلتے رہے گے؟
آ
خر ہم کب اپنے پیروں پر کھڑے ہونگے یا ہر سال بس دیگر ممالک سے امداد کے لیے ہاتھ پھیلاتے رہے گے؟
کیا حکومت میں آنے والے لوگوں کے پاس کوئی سوچ کوئی خیال اور نظریہ نہیں ہوتاہے کہ ملک میں اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوجائےتو اس کےلیے خوراک، رہائش ، تعلیم ، صحت اور روزگار کے کیا انتظامات ہونگے؟
یا نسل در نسل تقسیم اس قوم کا ایک ہی مقدر ہوگا ایک دوسرے سے نفرت کرو۔
مارو بھگائو ایک دوسرے کو ایسی باتیں کرو جنگ کا سماء تیار ہوجائے۔
اس بے وقوف قوم کے کیا حکمران بھی بے وقوف ہے۔ وہ تو پڑھ لکھ کر ووٹ حاصل کرکے اتنے بڑے فورم پر بیٹھے ہیں۔
ہمارا سوال سندھ حکومت سے ہے کیا آنے والے کلائمٹ چینج یا پھرموسمیاتی تبدیلی کے لیے سندھ حکومت نے کوئی پروگرام ترتیب دیا ہے۔
اگر دیا ہے تو اس میں کیا ہوگا کس طرح سے وہ کام کرےگا اور اس میں کتنے لوگوں کو کتنا عرصہ رہ سکے گے۔؟
سوائے سیاست دانوں کو ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے کچھ نہیں ملتا ؟
پلاننگ حکمت عملی آنے والے وقت کے چیلجز سے کون نمٹے گا ؟
یہ کسی کو پتا نہیں ۔
بس سب ہم آنکھیں بند کرکے زندگی گزاررہے ہیں اور ایک دن یہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گی اور پچھے رہنے والے روتے کڑتے ترستے زندگی کے دامن پر رنگتے نظر آئےگے