شہرمیں دودھ کی قیمت 180 روپے سے 200روپے لیٹرتک خود ساختہ مقررکردی ۔

عرفان علی عرفان علی

شہرمیں دودھ کی قیمت 180 روپے سے    200روپے لیٹرتک خود ساختہ مقررکردی ۔

ڈیری فارمرز کی جانب سے بھینس کے ساتھ ساتھ چارہ کی قیمت میں بھی مسلسل کئی گنا اضافہ ہونے پر دودھ کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔

 سرکارنےسختی سے نمٹنےکی بات کی تومعاملہ کچھ روزکیلئےمؤخرکردیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد دودھ ایک ساتھ 20 روپےتک مہنگا کردیا گیا۔

شہرمیں دودھ کی قیمت 180 روپے سے    200روپے لیٹرتک خود ساختہ مقررکردی ۔

 ڈیری فارمرز کہتے ہیں یا تو حکومت جانوروں کا چارہ سرکاری سطح پر قیمت کا تعین کرکے خود فروخت کرے۔

یاپھر اُن  کی جانب سے دودھ کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ مانےاورسرکاری قیمت میں اضافہ کرے۔

کراچی میں  ڈیری فارمرز کی جانب سے مارچ کے مہینے میں  چارہ مہنگا  ہونے کا جواز بناکردودھ کی ایکس فارم قیمت اورریٹیل قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا  گیا تھا لیکن رواں سال ماضی کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

شہرمیں دودھ سرکاری قیمت کی نسبت 80 روپے لیٹر اضافی قیمت پرفروخت ہورہا ہے۔

 کمشنرکراچی کی جانب سے دسمبر2021 میں اسٹیک ہولڈرزسےملاقات کےبعد قیمت 120 روپےلیٹرمقررکی لیکن اس پرعمل درآمدنہ ہوسکا۔

رواں سال مارچ کےمہینےمیں من مانی کرتےہوئےدودھ فروشوں نے قیمت 140 روپےتک پہنچائی،،،

اگست کےمہینےمیں دودھ دوبارہ مہنگا کر کے قیمت 170 سے180 روپےتک مقررکی۔

سردی کے آغاز پر  رواں سال تیسری باراضافہ کرکےقیمت 200 روپے لیٹرتک مقررکردی، یعنی سرکاری قیمت سے 80 روپےزائد قیمت   وصول کی جارہی ہے۔

ماضی میں سابقہ کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے ساڑھے چار سال تک دودھ کی سرکاری قیمت میں اضافہ نہ ہونے دیا

لیکن اُن کی تبدیلی کے بعد دوہزار سولہ میں سابقہ کمشنراعجاز احمد نے ڈیری فارمرز کا مطالبہ مانتے ہوئے پہلے دس روپے قیمت بڑھائی جو 89روپے لیٹر تک پہنچی۔

جس کےبعد نئےآنے والےکمشنرافتخاز شلوانی نے مارچ 2018میں 5روپے اضافہ کرکےدودھ کی سرکاری فی لیٹرقیمت 94روپےمقررکی اوراسےمزید نہ بڑھانےکاواضح اعلان کردیا۔

 جس کےبعد 2022 تک قیمت نہ بڑھ سکی۔

ڈیری فارمرزکا مطالبہ تھا کہ دودھ کا ایکس فارم ریٹ بڑھایا جائے۔

 دودھ کی اس قیمت کےدرمیان میں ہول سیلر کا منافع  چارروپے سے زائد جبکہ ریٹیلرکامنافع 3روپےسے زائد رکھا گیاہے۔۔