کراچی میں اوپن ملٹی سٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔
جس میں کراچی سمیت پاکستان کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد کیا تھا اس سے کیا فوائد حاصل کئےجاسکتےہیں
کراچی دی ہائیو میں اوپن سلیکوں ویلی ملٹی سٹی ایونٹ کا انعقاد کردیا گیا ۔کانفرنس میں ملک کی معروف شخصیات نے شرکت اور اپنے بہترین خیالات کا اظہار کیا ۔ کانفرنس کا مقصد دور جدید کےچلیجز اور بدلتے تقاضوں کو اپنانا ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی، ہیلتھ ٹیک مصنوعی ذہانت کے ذریعے آگاہی دینا تھا ۔
اوپن کراچی کی پریذڈنٹ ڈاکٹر فرح عیسیٰ زیدی نے کہاکہ اس کانفرنس کے ذریعے ہم نے کامیاب کاروباری شخصیات کو اکھٹا کیاہے جو اپنے تجربات کامیابی ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے آگے بڑھے ہیں۔ ہمارے ساتھ صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے ویڈیو کانفرنس پر کہاکہ ہماری جہاں مدد اور معاونت کی ضرورت ہوگی وہاں میں خود اور ہم نیٹ ورک ہمیشہ
موجود ہوگا ۔
یہ نایاب دعوت ہے گلوبل نیٹ ورک جو کہ چپٹر 15 اور ورلڈ چپٹر کے ساتھ اسے منسلک کرتاہے ہے جس میں آئیڈیاز کے تبادلے کے ساتھ نیٹ ورک ، سرمایہ کاری اور مینٹر شپ ، کنکشن شامل ہیں۔
معروف آئی ٹی کمپنی سسٹم لمیٹڈ کے سی ای او آصف پیر نے کہاکہ ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہ ہم ملازمتوں کے بہتر مواقع مہیا کریں اورتمام کاروباری اہداف حاصل کرلیے۔
اس کےلیے ہمارے پاس گہرا مقصد ہے جس کا بہترفائدہ حاصل کیا جاسکتاہے جس کے ذریعے ہم ملازمت کے مواقع فراہم
کرتے ہیں۔
وائس پریذڈنٹ اوپن کراچی شہزاد شاہد کا کہناتھاکہ پاکستان کو دنیا میں بہتر انداز میں متعارف کراناہی نئی تبدیلی کا آغاز ہے۔
یہ ملک کے برینڈ پر انحصار کرتاہے جس میں ہم پاکستان کو متعارف کراتے ہیں اوریہ سب سے بڑی اور بہتر تبدیلی ہے۔
کیٹلسٹ لیبارٹری کی سی او جہاں آراء کا کہناتھاکہ جو لوگ ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتے ہیں وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں اور ترقی پاتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے منسلک افراد اس کے مسائل کوحل کرے اور آگے بڑھے ترقی کرے۔
نوجوان انٹر پرینیئرانس نیاز کا کہنا تھاکہ پاکستان میں کسی بھی پروڈکٹ کو متعارف کرانے کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا
ضروری ہے جس میں اس کی بہتری اور دیرپا ہونا لازمی ہے
پاکستان میں کوئی بھی پروڈکٹ بناتے وقت ہم اس کی پائیداری ۔ دیرپا اور دیگر چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھناہوتاہے
لیبارٹری اینڈ ڈایکگنو سٹک سینٹر کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ نےکہاکہ
ہم کاروبار کو ترجیح بنیاد پر نئے خیال اور تصورات سے ہم آہنگ کرکے ترقی کی منازے طے کرسکتے ہیں۔ کانفرنس میں شرکاء نے اپنےبہترین تجربات اور خیالات سے حاضرین کو آگاہ کیا