روٹی، کپڑا اور مکان کےنعرے کےساتھ سیاسی کے افق پر نمودار ہونے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام انیس سوسڑسٹھ میں رکھا گیا۔
پیپلزپارٹی وفاقی میں چار باربرسراقتدار رہ چکی ہے۔
بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بعد انکی بیٹی بینظیر بھٹو اور ان کی شہادت کے بعد پوتے بلاول بھٹو پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔
روٹی، کپڑا اور مکان کےنعرے کےساتھ پاکستان پیپلز پارٹی انیس سوسرسٹھ میں جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں وجود میں آئی۔
تیس نومبرانیس سوسڑسٹھ کو لاہور میں بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا کنوینشن ہوا،، جس میں ان کے رفقاء بھی شریک ہوئے۔
تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والی پیپلزپارٹی عوامی تحریک بن گئی ،
جس نے کسانوں کی مدد کے لیے زرعی اصلاحات جیسی پالیسیوں کی حمایت کی۔
صنعتوں کو قومی دہارےمیں لیا اور بیوروکریٹس کی طاقت کو کم کرنے کے لیے انتظامی اصلاحات کیں۔
پیپلزپارٹی نے عوامی جدوجہد کی قیادت کی اور اس کے نتیجے میں ایوب خان نے مارچ انیس سوانہتر میں استعفیٰ دے دیا۔پیپلزپارٹی پہلی بار انیس سواکہترمیں اقتدار میں آئی ۔
انیس سوتہترسے انیس سوستترتک بانی پیپلزپارٹی ذوالفقارعلی بھٹو ملک کے وزیراعظم رہے۔انیس سو اٹھاسی سے انیس سونوے اور اس کے بعد انیس سوتیرانوےسے انیس سوچھیانوےتک بینظیر بھٹو نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالا ۔
دوہزارآٹھ سے دوہزاربارہ تک پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے یوسف رضا گیلانی جبکہ راجاپرویزاشرف دوہزاربارہ سے دوہزارتیرہ تک وزیراعظم بنے۔
انیس سواکہترسے تہترتک بانی ذوالفقارعلی بھٹواور دوہزارآٹھ سے دوہزارتیرہ تک شریک چئیرمین آصف علی زرداری سربراہ مملکت رہے۔
بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بعد انکی بیٹی بینظیر بھٹو اور ان کی شہادت کے بعد نواسے بلاول بھٹو پارٹی کے چیئرمین ہیں۔
پیپلزپارٹی کی اہم کامیابیوں میں انیس سوتہترکےآئین کی منظوری،جوہری پروگرام کاآغاز،ملک کی پہلی خاتون اسپیکرکاتقرر،این ایف سی میں بلوچستان کےحصے میں اضافہ،اقلیتوں کوایوانوں تک پہنچاناشامل ہے۔