عابدمیر لاپتہ اور سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

عابدمیر لاپتہ  اور سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

پاکستان میں صحافی، سیاست دان اور سوشل ایکٹوسٹ کی لاپتہ ہونے کی خبریں کوئی نئی بات نہیں ،لیکن اظہار کی آزادی کے رویوں کو برداشت نہ کرنے کے خلاف جدوجہد کا عمل جاری وساری ہے۔ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ صوبہ بلوچستان کے ادیب ، دانشور اور صحافی کی گمشدگی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی جس پر تمام حلقہ احباب کی جانب سے مختلف رائے منظر عام پر آنے کا سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔


بلوچستان کے نامور شاعر شاہ محمد مری کی جانب سے یہ دعویٰ کیاگیا ہےکہ عابد میر خیریت سے ہیں اور اپنے کسی دوست کے گھر پر مقیم ہے لیکن اب تک ان کا کوئی ویڈیو بیاں تاحال منظر عام پر نہیں آسکاہے۔


سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیااپیلی کیشن پر اس واقعے پر عوامی ردعمل کیا رہاہے۔پاکستان کے نامور صحافی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔



ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہاکہ عابد میر اپنے کسی دوست کے گھر پر ہیں اور خیریت سے ہیں۔



مشاق راجپر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ ایک روشن خیال انسان تھے۔



وائس آف امریکہ نے خبر کو کچھ ایسے نشر کیا





سینئر صحافی نصیر گوپانگ نے ان کے ساتھ وابستہ تعلق کو ظاہر کرتے ہوئے انکی تصاویر اور انکےلاپتہ ہونے کی خبر ٹوئٹر پر شیئر کی۔


 نامور صحافی و دانشور جامی چانڈیو نے فیض احمد فیض کے شعر سے  کو ٹویٹ کیا