عید قربان پر گوشت کھائیں،،مگر احتیاط سے۔ماہرین کے مطابق دن بھر میں دو سو گرام تک گوشت نقصان نہیں دیتا۔ ذیابطیس اور امراض قلب میں مبتلا افراد گائے کے گوشت ، کلیجی، مغز اور گردے کھانے سے اجتناب کریں۔
عید قربان آتی ہے تو چٹ پٹے پکوانوں کی بہار بھی ساتھ لاتی ہے۔
بیف کے کباب، پائے، نہاری ، چانپیں ، کڑھائی اور بہت کچھ
گوشت پروٹین کا اہم زریعہ ہے۔ لیکن گوشت کا زیادہ استعمال مضر صحت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانی صحت کو دیکھتے ہوئے۔ 70 سے 200 گرام گوشت کو یومیہ غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
ساتھ دہی اور لیموں کا استعمال بھی کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق گوشت کا مسلسل استعمال پیٹ کی بیماریوں سمیت یوریک ایسڈ اور جوڑوں کے درد کا سبب بھی بنتا ہے۔
تقریبا 70 سے 80 گرام پروٹین یومیہ کی ضرورت رکھیں۔ 200 گرام تب لیں جب آپ کھانے کے ساتھ ایکسرسائز بھی کررہے ہوں۔ زیادہ گوشت ہم کھالیتے ہیں اور پھر ڈائریا کا شکار ہو جاتے ہیں
صرف قربانی کا گوشت ہی نہیں بلکہ تمام ہی گوشت اچھی طرح پکا کر کھانے چاہییں۔
تیز مصالحہ جات، روغنی پائے اور نہاری کھانے میں بھی احتیاط برتی چاہیے۔
پروٹین کی ضرورت دیگر چیزوں سے بھی پوری کی جاسکتی ہے۔
پروٹین مچھلی، دالوں اور کچھ سبزیوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کے پاس ورائٹی موجود ہے۔ اس سے آپکا گٹ فلورا بہتر ہوتا ہے۔ اور اس سے آپکا ایمیون سسٹم بہتر ہوتا ہے
ماہرین کے مطابق زیابطیس اور دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو اور بھی زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ قربانی کے گوشت کو ڈیرھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جمانے اور پھر استعمال کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔