سندھ کابینہ کا دس سال کے دوران نجی اداروں کو دیئے قرضے معاف کرنے سے انکار۔ کے الیکٹرک کے ساتھ بلوں کی ادائیگی کا معاہدہ کرنے کی ہدایت ۔ سندھ امیونائزیشن ایکٹ کے تحت والدین کو بچوں کو ویکسی نیٹ کرانے کا پابند بنادیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ دوہزار بارہ ،تیرہ سے دوہزار بائیس، تیئس کے دوران سرکاری اداروں کو سات ارب اور نجی اداروں کو سترہ کروڑ سے زائد کے قرضے دیئے گئے۔ کمیٹیوں کی سفارش پر کابینہ نے سرکاری اداروں کے قرضے معاف کردیئے، لیکن نجی اداروں کو دیئے قرضے معاف کرنے سے انکار کردیا۔کابینہ نے محکمہ توانائی کو کے الیکٹرک کے ساتھ بل کی ادائیگی کا معاہدہ کر کے منظوری لینے کی ہدایت کی۔ شرکا کو بتایا گیا کے الیکٹرک سندھ حکومت کے اداروں سے ادائیگی میں تاخیر کی مد میں ایک کروڑ بیس لاکھ تک کا دعویٰ کررہی ہے۔دیگر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے مقابلے میں کے الیکٹرک نے الیکٹرک ڈیوٹی بھی ادا نہیں کی ۔ کابینہ نے ایس ای سی ایم سی اور سندھ حکومت کے درمیان کول مائننگ کے معاہدے میں ترمیم کردی۔نوری آباد پاور پلانٹ پروجیکٹ کے لئے قرضوں کی ادائیگی کی گارنٹی میں مزید دو سال کا اضافہ کردیا ۔کابینہ نے ٹنڈو الہیار سے آئل اور گیس پیداوار پر بونس کا ساٹھ فیصد یوسی تعلقہ میں خرچ کرنے کی بھی منظوری دی۔ چالیس فیصد بونس ضلع کے دیگر تعلقوں میں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جائیں گے۔ اجلاس میں سندھ فیکلٹی آف پیرامیڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کا بل منظور کیا گیا۔ فیکلٹی پیرامیڈیکل کورسز، ٹریننگ اور ان کی سرٹیفکیشن کو سپروائز کرے گی۔ سندھ امیونائزیشن اینڈ اپیڈمک کنٹرول ایکٹ دوہزار تیئس کی بھی منظوری دی گئی۔ قانون کے تحت والدین بچوں کو ویکسینیٹ کروانے کے پابند ہوں گے۔اجلاس میں میہڑ اسپتال کو اپ گریڈ کرنے اور سندھ میڈیکولیگل ایکٹ دوہزار تیئس کی منظوری دی۔وزیراعلی نے شرکا کو بتایا سیلاب متاثرین کو گائوں کی زمین کے مالکانہ حقوق دینا شروع کردیئے ہیں۔