جب دلیل ہاری، ہاتھ اٹھا ،رسوا ہوئے

عرفان علی عرفان علی

 جب دلیل ہاری، ہاتھ اٹھا ،رسوا ہوئے

پاکستان ٹیلی ویژن کے آج بھی وہ شاندار پروگرام سب کو ہی یاد ہونگے ،

بات کرنے کا سلیقہ الفاظ کا چنائو ، کیا آن ایئر جانا چاہیے کیا نہیں یہ تربیت کاحصہ تھا ایک پروڈیوسر برسا برس سینئر پروڈیوسر کے ساتھ کام کرتا تھا اٹھنا بیٹھنا، پڑھنا لکھنا ، ترتیب ،آئیڈیاز پر بات ہوتی تھی۔


سینئر کا احترام ہوتا تھا اپنے سینئر کے لیے احترام میں لوگ کھڑے ہوجاتے تھے اپنا تعارف اپنے سینئر سے کراتے ہوئے کہا جاتا تھا  یہ میرے استادہے میں نے ان سے سب کچھ سیکھاہے۔

اب تو سب استاد ہے یوں لگتاہے گھر کی فیکٹری سے سب کچھ سیکھ کرآئے ہیں۔

انکو کوئی سیکھا نہیں سکتا ۔



جیسے آج لوگ سوشل میڈیا سے پریشان ہے ہر کسی کے یہ استعمال میں ہے اور جس کا جو دل چاہتاہے ویسے ہی اپنے عزائم پسند نہ پسند کے لیے اسے استعمال کرتا ہے۔


بلکل ایسے ہی جب پاکستان ٹیلی ویژن اپنے وجودیت کی جنگ ہارنے کےقریب تھا تو اس وقت پرائیوٹ چینل نے جنم لیا ۔ یہ جنم بھی ایساہی تھا جیسے کسی کے گھر اولاد نہ ہو اور بڑی منتوں سے کیسی  بچے کا جنم ہوا ہو۔


افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتاہے اس بچےکا جنم تو ہوا لیکن یہ بچہ ابھی تک بالغ نہیں ہوپارہاہے صرف اور صرف بچپن ہی اس کے اندر ہمیں نظر آتاہے پھرغیر سنجیدگی کایہ عالم ہے ٹالک شوز ایسے تیار کئے جاتے ہیں جیسے کوئی میدان جنگ ہو۔


دو پارٹیوں کے ویسے ہی نظریاتی اور ذاتی اختلافات ہونے کے باوجود انہیں ساتھ بیٹھایا جاتاہے باتیں کی جاتی ہیں

میں اگر یہ کہوں جان بوجھ کر انہیں لڑایا جاتا ہےتو بے جا نہ ہوگا جب وہ خوب ایک دوسرے کو برا بھلا کہتےہیں

لڑتے ہیں ایک دوسرے کو رسوا کرتے ہیں وہاں سے پروگرام کی ریٹنگ میں اضافہ شروع ہوتاہے

مالکان کا منجن بکنا شروع ہوتاہے پروگرام کی پذیرائی میں اضافہ ہوتا چلا جاتاہے۔


لیکن اس میں ہم نے رسوائیاں دیکھی پریشانیاں دیکھی ایک دوسری کی تذلیل دیکھی کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو ایک شخص کو دوسرے سے ممتاز رکھے ہم سب ایک ہی طرح کے لوگ ہے شاید لڑنا ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا ہماری تسکین کا باعث ہوتاہے ۔

ہم  تنقید بات دلیل سے بھی تو کرسکتے ہیں لیکن یہ سب تو پڑھے لکھے معاشروں میں ہوتاہے جہاں دلیل سے بات کی جاتی ہے

یہاں تو لوکل بس میں سفر کرنے والوں کی طرح کبھی کرائے پر کبھی پہلے میں کھڑا تھا آپ کیوں بیٹھے کبھی کس بات پر تو کبھی کس بات پر لڑائیاں ہوتی ہے جنہیں ہم ایشو ہی نہ کہے معمولی بات پر یہاں قتل ہوجاتے ہیں ۔


ہم کب ایک سنجیدہ اچھا باشعور معاشرہ  میں اپنا ایک چھوٹا سا کردار ادا کرینگے ؟


ہم کب تک یہ چھوٹے کلپ ایک دوسرے کو بھیج بھیج کر خوش ہونگے دوسروں کی تذلیل ۔

ایک نجی ٹی وی چینل پر صحافی و اینکر پرسن جاوید چوہدری کے پروگرام ہاتھا پائی ہوئی ۔ اس سے قبل بھی 2021 میں اس وقت پی ٹی آئی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل پر ہاتھ اٹھایا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان خان اور پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کےرکن شیر افضل خان مروت کی ہے جو دلیل سے بڑھ کر ہاتھوں سے فیصلہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور پروگرام سمیت خود کو رسوا کرکے بھی اب بھی دونوں یہی کہہ رہےہیں میں درست تھا وہ غلط ۔

زندگی میں کچھ جگہیں کچھ فیصلے درست غلط کے نہیں ہوتے ہیں وہ ہم سب کے لیے ہوتے ہیں جن سے دور رہنا ہی ہماری بہتری ہے۔پی ٹی وی کے پروگرامز کو میں آج بھی اچھا اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ہر انسان کی ایک حد ہوتی تھی کیا نشر ہونا چاہیے کیا نہیں ۔

ایک پالیسی تو تھی بے شک رکی ہوئی ٹہری ہوئی تھی ۔ ذیادہ آزادی بھی ہمیں رسوا کررہی ہے

ہمارے شوز کرنے والے ان میں آنے والے مہمانوں اور پروگرام کرنے والے پروڈیوسرز کا جو معیار ہے اس پر بات کرنا فضول ہے۔