کراچی میں عرشی شاپنگ پلازہ میں آگ بجھی تو معاشرے کی بےحسی بھی سامنےآئی
متاثرہ عمارت کے مکینوں نےقیمتی اشیاء
چوری ہونےکادعویٰ کردیا ۔
مکین کہتے ہیں کہ افرا تفری میں ہم گھر
کھلا چھوڑ کر جان بچانےکےلیےبھاگے۔
واپسی گھرپہنچے تو موبائل فون غائب
ہوگئے
کراچی میں بدھ کی شام شاہراہ پاکستان پرعائشہ منزل کے نزدیک
عرشی شاپنگ مال میں شام پانچ بجکرچالیس منٹ کےبعد آگ لگی۔
دیکھتےہی دیکھتےآگ کےشعلےبلندہوئے تو
عمارت کےمکینوں نےبھاگ کر جان بچائی ۔
آگ بجھانےاور ریسکیوآپریشن کےدوران
عمارت کو سیل کیاگیا ۔
سوسےزائدافراد کو بحفاظت عمارت سے باہر
نکالاگیا
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرجمعرات کو
رہائشی خاندانوں کے ایک فرد کوفلیٹوں کولاک کرنےکی اجازت ملی تو قیمتی اشیاء کےچوری
ہونےکاانکشاف ہوا۔
فرحانہ ،متاثرہ خاتون کہتی ہیں کہ فلیٹ
میں جب اگ لگی تو چاروں سوتے ہوئے بچوں کو اٹھا کر نیچے بھاگ گئے۔فلیٹ کو کھلا
چھوڑ کر گئے تھے فلیٹ تو آگ سے محفوظ رہا، لیکن موبائل فون غائب ہو گئے ۔
مکینوں کادعویٰ ہے کہ افرا تفری میں ہم
گھر کھلا چھوڑ کر نیچے کی جانب بھاگے تھے۔ہمارے گھر میں چار موبائل فون تھے، اب
چاروں موبائل فون بند جارہے ہیں اور گھر میں کوئی موبائل فون موجود نہیں۔
حمزہ،مکین کہتےہیں کہ افرا تفری میں ہم
گھر کھلا چھوڑ کر نیچے کی جانب بھاگے تھے۔۔۔آج ہم اوپر فلیٹ میں گئے تو دیکھا فلیٹ
آگ سے بچ گیا مگر چوروں سے نہ بچ سکا۔
دیگر فلیٹس کے مکین بھی بتا رہے ہیں ان
کے بھی گھر سے موبائل فونز غائب ہیں۔
ہمارے گھر میں چار موبائل فون تھے، اب
چاروں موبائل فون بند جارہے ہیں اور گھر میں کوئی موبائل فون موجود نہیں۔
ضلعی انتظامیہ کاموقف ہےکہ مکینوں
کوضروری سامان جمع کرنےکی اجازت دی گئی ۔
فی الحال مکینوں کو سکونت اختیارکرنےکی
اجازت نہیں ۔
مکینوں عمارت میں جاکر فلیٹس لاک کرسکتےہیں۔