کراچی میں گرمی کی شدت نے چڑیا گھر کے جانوروں کو بھی ہلکان کردیا۔
انتظامیہ نے جانوروں کو نہلانے اور پنجروں میں برف رکھ کر ٹھنڈک پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔
موسم کی مناسبت سے خوراک کی فراہمی کے ساتھ پنجروں پر شیڈ بھی لگایا گیا ہے۔
چڑیا گھر کی ہتھنی کا نہانا،، یوں تو معمول کی بات ہے، لیکن آج کل شدید گرمی میں ہتھنی نہانے کا کچھ زیادہ ہی لطف اٹھا رہی ہے۔
تالا ب میں داخل ہوتے ہی ہتھنی گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے لیٹ جاتی ہے، اور جب تک اسے خود نےنکالا جائے تالاب سے باہر نہیں آتی۔
گرمی نے چڑیا گھر میں موجود ٹائیگر کو بھی پریشان کر رکھا ہے، جو پنجرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتا نظر آتا ہے۔ بنگال ٹائیگر کو گرمی سے بچانے کےلئے پنجرے میں برف رکھنے کےساتھ پنجرےپر شیڈ بھی ڈالے گئے ہیں۔
جانوروں کے پنجروں کی جو دھلائی ہوتی ہے وہ صبح اور شام میں کی جاتی ہے ان کی سطحوں کو گلا کیا جاتا ہے اس کے علاوہ جانوروں کو برف دیا جاتا ہے ان کو الیکٹرولائٹ دیا جاتا ہے ان کے پنجروں کو اوپر سے شیڈ سے ڈھکا گیا ہے جن پر درخت نہیں ہے ان کے ان کو ڈھکا گیا ہے
جن پر درخت ہیں ان کو پانی سے نہلایا جاتا ہے تاکہ گرمی کم ہوسکے
چڑیا گھر کی انتظامہ کا کہنا ہے کہ گرمی کی مناسبت سے تمام جاوروں کو خصوص خوراک دی جا رہی ہے ۔۔ اور انہیں نہلانے کا بندوبست بھی کیا جار ہا ہے تا کہ انھیں گرمی کا احساس کم سے کم ہو ۔
ڈاکٹر عامر،ڈپٹی ڈائریکٹر۔۔۔غذا ایسی دینی چاہیے تاکہ وہ اس کے لیےآسانی سے ڈائجسٹرڈ ہوں اس کے اندر میٹابولزمتی ناؤ کے اندر کا ٹمپریچر مزید بڑھ جائے ایزیلی ٹیسٹیبل اور پانی کی وافر مقدار موجود ہے جس میں الیکٹرولائٹ بھی ڈالا ہوا ہے۔۔۔وقتا فوقتا اس کو پانی کا شاور کرتے رہیں اس کے اوپر تاکہ وہ جانور ایزی فیل کر سکے۔
گرمی سے جہاں چڑیا گھر کے جانور پریشان ہیں وہی شہری بھی گرمی میں چڑیا گھر کا رخ کرنے سے کترا رہے ہیں۔ دن کے اوقات میں چڑیا گھرمیں سناٹا چھایا رہتا ہے۔