تحریر نادیہ نواز
اداسی بےزاری یا مایوسی میں مبتلا ہونے
کو ڈپریشن کہتے ہیں ایسے ہی ایک بیماری میں رضیہ بی بی مبتلا ہوئیں جن کا تعلق
چکوال سے ہے وہ سیالکوٹ میں رہتی ہیں رضیہ بی بی کہتی ہیں کہ جب وہ سیالکوٹ آئیں
تو وہ خوشی خوشی یہاں شفٹ ہوئی ان کا کہنا ہے کہ کرائے کا گھر بہت زیادہ تنگ تھا
اور وہ کشادہ گھر کی عادی تھی حتٰی کہ کرائے کے گھر میں کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی
کہتی ہیں کہ ان کا خاوند رکشہ چلاتا تھا جس کی وجہ سے ان کا گھر کا گزر بسر مشکل
سے ہوتا تھا رضیہ بی بی کا کہنا ہے کہ تنگ گھر اور گھریلو تنگدستی کی وجہ سے ان کا
دم گھٹتا تھا آغاز میں انہیں اس بات کا علم نہیں ہوا کہ وہ ڈپریشن میں مبتلا ہو
رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب کچھ عرصہ گزر
گیا تو ان کو جھٹکے لگتے تھے اور ان کی طبیعت خراب ہو جاتی تھی کہتی ہیں کہ انہوں
نے ڈاکٹر کو چیک اپ کروایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ڈپریشن کے مریضہ ہیں ان کا
کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا علم بھی نہیں ہوا کہ وہ ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا ہو
چکی ہیں انکا بیٹا حامد انہیں بہت خوش رکھنے کی کوشش کرتاتھا لیکن ڈپریشن کا مرض اب ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ
چلتا گیا جب تک وہ پلز نہ کھائیں ان کو بے چینی رہتی ہے اور انہیں نیند نہیں آتی اگر مایوسی یا اداسی دو ہفتے سے بڑھ جائے تو وہ
ڈپریشن بن جاتی ہے اور یہ بہت سی بیماریاں پیدا کرتی ہیں اور ہماری روز مرہ کی
زندگی کو متاثر بھی کرتی ہے
روبینہ بی بی کہتی ہیں کہ ان کی شادی 16
سال کی عمر میں ہوئی وہ مشترکہ فیملی نظام میں رہتی تھی گھریلو جھگڑوں اور روزمرہ کی روک ٹوک سے وہ ذہنی طور پر سٹریس
لیتی تھی اس سٹریس کے مسلسل لینے کی وجہ سے ان کو ڈپریشن ہو گیا اس ڈپریشن کی وجہ
سے انہیں اب کوئی چیز یاد نہیں رہتی وہ بہت جلدی ہر چیز بھول جاتی ہیں حتی کہ کچھ
منٹوں پہلے کی گئی بات بھی بھول جاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب وہ ڈپریشن کی دوائی
کھاتی ہیں اگر وہ نہ کھائیں تو ان کے سر کو چکر آتے ہیں اس سارے جسم میں درد ہو
جاتا ہے اور نیند ہی نہیں آتی
بعض دفعہ زندگی کا واقعات ہوتے ہیں جس میں
ان کی عزیز و اقارب کا فوت ہو جانا نوکری کا ختم ہو جانا وغیرہ شامل ہے جسمانی طور
پر لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں وہ لوگ جنہیں خطرناک بیماریاں ہوں مثلا کینسر ،
دل کی بیماریاں اور ہیموفیلیا کی وجہ سے ڈپریشن ہو جاتا ہے انسان
کے بچپن میں ہونے والے تجربات و حالات بھی ہو سکتے ہیں مردوں کی نسبت خواتین
میں ڈپریشن ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
اور ڈاکٹر سید ذکی معین جن کا تعلق شعبہ
نفسیات سے ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے مریض کا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا کسی
چیز پر توجہ نہیں دیتا اور خود کو دوسروں سے کم تر سمجھتا ہے اور ایک تو وہ اپنے
مستقبل سے مایوس ہوتا ہے دوسرا اس کی نیند میں بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے
ماہر نفسیات مریم کہتی ہیں ڈپریشن کے
مرض سے انسان خود کو نکال سکتا ہے اگر وہ خود کو جسمانی طور پر مصروف رکھے ورزش
کرے اور کوشش کرے کہ متوازن غذا کھائے شراب نوشی اور سگریٹ سے پرہیز کرے اور اگر
ڈپریشن کے مریض کو نیند نہ آئے تو وہ بے چینی میں محسوس نہ کرے خود کو ریلیکس
رکھے ڈپریشن کا علاج سائیکوتھراپی اور ادویات
سے بھی کیا جا سکتا ہے اگر ڈپریشن درمیانی درجے کا ہے تو سائیکوتھیراپی کی جاتی ہے
اور اگر شدت کا ہے تو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کی جاتی ہیں یہ ادویات سیروٹونن
اور نار ایڈرینلین کی کمی ہوتی ہے دماغ میں زیادتی کرتی ہیں جس کی وجہ سے ڈپریشن
کم ہو جاتا ہے
مارے نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر ڈپریشن
کا علاج نہ کروایا جائے تو یہ نہ صرف اپ کی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ لوگ اپ کی
حرکتوں کی وجہ سے اپ کو ناپسند بھی کرتے ہیں
خواتین میں ڈپریشن زیادہ اس لیے ہوتا ہے
کیونکہ خواتین میں ایسٹروجن اور پروجسٹرون ہارمونز غیر متوازن ہو جاتے ہیں
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 280 ملین لوگ ڈپریشن
کے مریض میں مبتلا ہیں جن میں پانچ فیصد بالغ لوگ اور پانچ یا سات فیصد 60 سال سے
زیادہ عمر کے لوگ ہیں 60 فیصد لوگ ڈپریشن کی وجہ معاشی تنگی ہے ڈبلیو ایچ او کے
مطابق 75 فیصد لوگ جن کی انکم کم ہوتی ہے وہ ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں