کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے کی تمام تدبیریں ناکام ہوگئی


 کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے کی تمام تدبیریں ناکام ہوگئی

 

کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے کی تمام تدبیریں ناکام ہوگئی۔رواں سال اسٹریٹ کرائم کی شرح گذشتہ سال کی نسبت37 فیصد بڑھ گئی۔۔۔سی پی ایل سی کے اعدادو شمار صورتحال کی سنگینی سامنے لے آئے۔ 7ماہ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت 11ہزار 570 وارداتیں زیادہ ہوئیں۔

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔کراچی میں اسٹریٹ کرائم  کا  احوال بھی کچھ اس ہی طرح کا ہے ۔۔۔

سی پی ایل سی کے تازہ اعدادووشمار نےحقائق سے پردہ اٹھا دیا۔۔۔ کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں 43 ہزار سے تجاوز کر گئیں، گذشتہ برس سات ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائم کی31ہزار 527 وارداتیں رپورٹ   ہوئی تھیں۔۔۔

ریکارڈ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت اسٹریٹ کرائم کی شرح میں رواں برس  مجموعی طور پر 37 فیصد اضافہ ہوا، رواں سال سات ماہ میں کراچی سے 27ہزار 40 موٹر سائیکلیں چوری اوراسلحے کے زور پر  ڈھائی ہزار سے زائد  چھین لی گئیں۔۔۔رواں سال شہریوں کو 1ہزار اناسی گاڑیوں  اور 12ہزار 471 موبائل فونز سے  بھی محروم کردیا گیا۔۔۔

اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے مقابلے میں رواں سال موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں سو فیصد اضافہ ہوگیا۔۔۔ موٹر سائیکل کی چوری 50 فیصد ، گاڑیوں کی چوری 14 فیصد  اور موبائل فون چھیننے جانے کی شرح 10  فیصد  بڑھ گئی ۔۔گذشتہ برس کے سات ماہ میں کراچی والوں سے 11ہزار 308 موبائل فونز،19ہزار 259 موٹرسائیکلیں  اور 960 گاڑیاں چوری اور چھین لی گئی تھیں ۔۔