سینیٹ اجلاس،26ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ترمیم کے حق میں 65 ووٹ آئے،ایک شق کی مخالفت میں 4ووٹ آئے

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سینیٹ اجلاس،26ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے  منظور  ترمیم کے حق میں 65 ووٹ آئے،ایک شق کی مخالفت میں 4ووٹ آئے

سینیٹ اجلاس،26ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے  منظور

ترمیم کے حق میں 65 ووٹ آئے،ایک شق کی مخالفت میں 4ووٹ آئے

پی ٹی آئی نے 22شقوں کی منظوری میں حصہ نہیں  لیا

26ویں آئینی ترمیم کا بل 22 شقوں پر مبنی ہے

سپریم کورٹ کا آئینی بینچ تشکیل دیا جائےگا،آئینی ترمیمی بل کے مطابق

جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تقرر کرے گا

آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے

آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا،

آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے 

آئینی بینچ کم سے کم5 ججز پر مشتمل ہوگا،

آئینی بینچز کے ججز کا تقرر3 سینئر ترین ججز کی کمیٹی کرے گی

چیف جسٹس  پاکستان کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا،

پارلیمانی کمیٹی 3سینئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس پاکستان  کا تقرر کرے گی

کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم اورصدر مملکت کو بھجوایا جائے گا

پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کی تعیناتی دو تہائی اکثریت سے کرےگی،

کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا

چیف جسٹس کے تقرر کیلئے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائےگی

پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی،

پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی، 4 ارکان سینیٹ ہوں گے،

چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت3 سال ہوگی،

چیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر،