ام رباب قتل کیس: سردار چانڈیو کی دادو عدالت میں پیشی، سخت مؤقف اختیار
دادو: سات سال پرانے ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایم پی اے سردار احمد چانڈیو نے فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج محمد حسن کھلوڑوکی عدالت میں پیشی دی، جہاں سات گھنٹے طویل سماعت کے دوران دونوں فریقین کے وکلاء نے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار چانڈیو نے کہا:
> "سات گھنٹے سماعت چلی، دونوں وکلاء نے دلائل دیے، اگلی سماعت پر پھر حاضر ہوں گے۔"
صحافیوں کے سوالات پر انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا:
> "کونسی ساخت خراب ہوئی؟ دونوں بھائی سندھ اسمبلی کے ممبر ہیں، ہمارا کتا بھی ان کے پاس چل کر نہیں جائے گا۔ جو کورٹ کا فیصلہ ہوگا، اس کا سامنا کریں گے۔"
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل سے متعلق ہے، جو 2018 میں ضلع دادو میں پیش آیا تھا۔ ام رباب نے اس قتل کے خلاف بھرپور قانونی جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں ایم این اے غلام رسول چانڈیو، ایم پی اے برہان چانڈیو اور سردار احمد چانڈیو سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔
حال ہی میں ام رباب نے عدالت میں گواہوں کے بیانات مکمل ہونے پر سجدہ شکر ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے گواہ نے کیس سے ہٹ کر بیان دیا، جس سے سچ سامنے آیا۔