قومی ادارہ امراض قلب کرپشن کیس میں سیکریٹری صحت نے پالیسی فیصلے کے لئے تین ماہ کا وقت مانگ لیا۔

صبانور صبانور

قومی ادارہ امراض قلب کرپشن کیس میں سیکریٹری صحت نے پالیسی فیصلے کے لئے تین ماہ کا وقت مانگ لیا۔

قومی ادارہ امراض قلب کرپشن کیس میں سیکریٹری صحت نے پالیسی فیصلے کے لئے تین ماہ کا وقت مانگ لیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے اس کو آدھا قبر میں نہ رکھیں، نکالیں یا دفن کردیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں  دوران سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ آپ ڈاکٹر باری کو ادارے کا کنٹرول کیوں نہیں دے دیتے ۔ مبر بورڈ آف گورنرز نے کہا اگر دینا ہو تو ڈاکٹر ادیب رضوی کو دے سکتے ہیں۔اس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو اور اچھی بات ہے ۔محکمہ صحت کا حال  یہ ہے کہ تمام اسپتال آئوٹ سورس کررہے ہیں۔ کیا دوسرے صوبوں میں بھی ایسا ہوتا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کس بات کا پالیسی فیصلہ ،،،جب این آئی سی وی ڈی ایکٹ موجود ہے ۔اگر سرکاری اسپتال اس قابل ہوتے تو پرائیویٹ اسپتال نہ کھلتے ۔عدالت نے کہا کہ نیب تحقیقات کررہا ہے ۔ اس لئے کریمنل سائڈ پر نہیں جائیں گے۔  سیکریٹری صحت نے  پوچھنے پر بتایا کہ ڈائریکٹرکی  تقرری کا عمل شروع ہوگیا ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سیکریٹری صاحب اچھا قابل ڈاکٹر لاڑکانہ کیوں جائےگا ۔وہاں کاروکاری ہے ، ڈاکو راج ہے ، بد امنی ہے ۔ آپ ڈاکٹرز کو اچھا پیکج کیوں نہیں دیتے ۔ جب سربراہ اور ممبرز ایک  ہیں تو  ۔۔  این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی   سی وی ڈی کے بورڈ  الگ الگ کیوں ہیں۔ ڈاکٹر ندیم قمر دونوں بورڈز میں کیسے ہوسکتے ہیں۔