کراچی میمن گوٹھ میں با اثر افراد کے مبینہ تشدد سے ہلاک
نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل کی تحقیقات
کرنے والی پولیس ٹیم نے تکینیکی بنیادوں پر شواہد جمع کرنا شروع کردیئے،زیر حراست
دو ملزموں نے قتل کا اعتراف بھی کرلیا ،پولیس کی تفتیشی ٹیم نے ایم پی اے جام اویس
کے بیان کا بھی تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لینے
کا فیصلہ کرلیا
کراچی میں مبینہ طور پر رکن سندھ اسمبلی جام اویس اور ساتھیوں کے
تشدد سے ہلاک نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل
پر پولیس کی تفتیشی ٹیم کا تکینکی بنیادوں پر کیس سے جڑے حقائق سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے،تفتییشی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار دو ملزموں میر علی اور حیدر نے قتل کا اعتراف کرلیا ہےا
ور ملزموں کا کہنا ہے کہ فرار ہونے کی
کوشش پر ناظم جوکھیو پر ڈنڈوں سے پے در پے وار کئے جس سےاس کی موت واقع ہوگئی ۔۔۔تفتیشی ذرائع کے
مطابق گرفتار ایم پی اے جام اویس سمیت دیگر ملزموں کی فون کالز کا
ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے جبکہ تفتیشی ٹیم
کا ایم پی اے جام اویس کے بیان کا بھی
تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لے رہی
ہے۔۔۔ تفتیشی حکام نے مقتول ناظم جوکھیو کے بھائی اور قریبی رشتے داروں کو بھی
اتوار کے روز طلب کیا ہے،پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ ناظم جوکھیو کے لواحقین کے بیانات
کو پولیس تفتیشی ٹیم اپنی رپورٹ کا حصہ بھی بنائے گی
اور ملزموں کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔۔۔