اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی۔
ہینڈریڈ انڈیکس دوہزار ایک سو چونتیس پوائنٹس گرگیا۔آج اسٹاک مارکیٹ میں رواں سال کا
کم ترین انڈیکس رہا۔ سرمایہ کاروں
کے تین کھرب روپےسے زائد ڈوب گئے۔ماہرین
کہتے ہیں روپے کی گرتی قدر اور کرنٹ
اکاونٹ خسارے میں اضافہ سے سرمایہ
کار اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ شرح سود میں
اضافے کی خبروں نے مارکیٹ پر برا اثر ڈالا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز شدیدمند
ی کا رجحان رہا۔ صبح سے ہی مارکیٹ میں افواہیں گردش کرنے لگیں۔ انڈیکس آغاز سے ہی
مسلسل گراوٹ کا شکار رہا۔ مارکیٹ پہلے سیشن میں ہزار پوائنٹ تک گر گئی۔ دوسرے سیشن
میں مارکیٹ دوہزار سے زائد پوائنٹس گر کرچار اعشاریہ آٹھ فیصد تک نیچے آئی،،، لیکن
پھر معمولی ریکوری ریکارڈ کی گئی۔دن کے اختتام پر ہینڈریڈ انڈیکس دوہزار ایک سو چونتیس پوائنٹس کی کمی سے تینتالیس ہزار دو سو چونتیس پوائنٹس پر بند
ہوا۔آج اسٹاک مارکیٹ میں رواں سال
کا کم ترین انڈیکس رہا۔چوہتر ارب سے زائد کیپٹلائزیشن ریکارڈ
کی گئی۔ سرمایہ کاروں کو تین کھرب سے زائد کا نقصان ہوا۔ماہرین نے کاروباری ہفتے
کے چوتھے روز کو سیاہ دن قرار دے دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ٹی بلز کی
غیر ضروری فروخت اور شرح سود میں اضافے کی خبروں نے بڑا اثر کیا۔روپے کی گرتی قدر
اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافہ سے سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھے ہیں ۔جس کی وجہ سے مارکیٹ
گراوٹ کا شکار رہی ۔