اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سندھ اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیےریکوزیشن
جمع کرادی۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کہتے ہیں 2013 کا ایکٹ یا
ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہل چکا ہے۔ ایم کیو ایم رہنماء کنور نوید جمیل
کاکہنا تھا کہ سندھ بالخصوص کراچی میں
جرائم میں اضافہ ہوگیا ہے۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے سندھ اسمبلی میں 18نکاتی ریکوزیشن جمع کرادی۔
جس میں امن وامان کی خراب صورتحال،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم، سندھ میں
یوریا کھاد کی مصنوعی قلت،صحت کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل ،پانی کی مصنوعی
قلت،تھر پارکر میں بچوں کی اموات کے مسائل اور دیگر مسائل شامل ہیں۔سندھ اسمبلی میں
اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 2013 کا ایکٹ یا ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلے
کے بعد ہل چکا ہے۔آجکل وہ فیصلہ کررہے ہیں جو تین میں نہ تیرہ میں۔جماعت اسلامی
اور پی ایس پی فیصلے کررہی ہے۔یہ آپس میں ماموں بھانجے لگے ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنماء کنور نوید جمیل کاکہنا تھا کہ ہماری بات سننے کی
بجائے حکومت اور وزیراعلیٰ نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔سندھ بالخصوص کراچی میں
جرائم میں اضافہ ہوگیا ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں نیا لوکل باڈیز کا بل
اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔ایم کیو ایم کا بلدیاتی بل اسمبلی میں جمع ہے
اپوزیشن رہنماوں کاکہنا تھا کہ اپوزیشن کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے
نہیں دیا جارہا ہے،تین تین مہینے اجلاس نہیں بلایا جاتا۔اپنی خواہش کی مطابق اسمبلی
کو چلایا جارہا ہے۔