کراچی میں چینی
باشندوں پر ماضی میں بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں۔چینی شہریوں کو کب اور کیسے
نشانہ بنایا گیا۔ا ن حملوں میں کتنی جانیں گئیں،،
پانچ فرور ی 2018
کو ڈیفنس کے علاقے میں نامعلوم ملزمان نے گاڑی میں سفر کرنے والے
دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی۔
حملہ میں ایک چینی باشندہ ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
دونوں چینی
باشندے شپنگ کمپنی کے
ملازم اور لالہ زار کالونی کے مکین
تھے۔
تئیس نومبر 2018
کو مسلح ملزمان نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا،، جس میں دو
پولیس اہلکار اور دو پاکستانی شہری جاں
بحق ہوئے۔
تما م چینی باشندے محفوظ رہے۔ تین حملہ آور مارے گئے۔
بائیس دسمبر 2020 کو
سپر ہائی وے پر جمالی پل کے قریب دو موٹرسائیکل سواروں نے شوروم پر گاڑی خریدنے آئے چینی باشدو ں
پر فائرنگ کردی،،
تاہم وہ حملے میں
مٖحفوظ رہے۔
چینی باشندے اپنے
ترجمان کے ساتھ ایک آن لائن ٹیکسی میں آئے تھے۔
اٹھائیس جولائی 2021 کو
سائٹ ایریا میں گلبائی کے قریب موٹرسائیکل پر سوار ملزمان نے چینی شہریوں کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا چینی
انجینئر شدید زخمی ہوگیا۔ اگلی نشست پر
بیٹھا چینی شہری اور مقامی ڈرائیور محفوظ رہے۔
سولہ دسمبر 2020 کو کلفٹن میں بلاول ہاوس کے قریب چائنا ٹاون ریسٹورنٹ کی چلتی گاڑی پر نامعلوم ملزمان
مقنا طیسی ریموٹ کنٹرول ڈیوائس لگا کر فرار ہوگئے۔
گاڑی میں چینی شہری سمیت سوار دو افراد خطرہ بھانپ کر گاڑی
سے اتر گئے،،
اور کسی نقصان سے
محفوظ رہے۔
چھبیس اپریل 2022 کو کراچی یورنیورسٹی میں خاتون خودکش بمبار نے وین کے نزدیک
خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
حملے میں تین چینی باشندوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔
خودکش حملے میں ایک
چینی باشندے سمیت چار افراد زخمی بھی ہوئے