سندھ اسمبلی
میں آج پھر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی
کی خواتین ارکان کے موبائل فون چھیننےجانے اور چوری ہونےکے واقعہ کی گونج
سنائی دی۔
مخالف ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
قائم مقام اسپیکر کا کہناتھا انکوائری میں جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا،، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
سندھ اسمبلی
کا اجلاس قائم مقام اسپیکر ریحانہ لغاری کی صدارت میں ہوا۔
قائم مقام
اسپیکر کا کہنا تھا موبائل فون چھیننے
کے الزامات سے متعلق انکوائری
رپورٹ ملنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
دعا بھٹو کے
ساتھ رویئے پر معافی کا مطالبہ ہوا،،،،
تو کلثوم چانڈیو کا موبائل فون
چوری ہونے پر انکوائری کا مطالبہ
بھی سامنے آگیا۔
اس موقع
پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان
اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ان میں سخت جملوں کا تبادلہ
رکن ایم کیوایم نے
بجٹ کو بیوروکریسی کا بجٹ قرار دیا
،، تو پی ٹی آئی کے بلال غفار نے بجٹ کو
ماضی کے بجٹ کی کاپی پیسٹ قرار دے ڈالا۔
پیپلز پارٹی
کے ارکان کا کہناتھا پی ٹی آئی حکومت ملک
کو تباہ کر کے چلی گئی۔ سندھ حکومت
عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام
کررہی ہے ۔۔۔
سندھ اسمبلی
کا اجلاس پیرصبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔۔۔