کراچی میں دوہزار اٹھارہ سے بھرتی اساتذہ کا مستقلی کے لئے احتجاج۔

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

کراچی میں  دوہزار اٹھارہ سے بھرتی اساتذہ کا  مستقلی کے لئے احتجاج۔

 

کراچی میں  دوہزار اٹھارہ سے بھرتی اساتذہ کا  مستقلی کے لئے احتجاج۔

 وزیراعلی ہاوس جانے کی کوشش میں  پولیس سے جھڑپ۔پولیس اہلکاروں  کا لاٹھی چارج۔ متعدداساتذہ کو حراست میں لےلیا۔

بعد  میں ڈپٹی کمشنر جنوبی نے رہائی کا  حکم جاری کردیا۔

سندھ کے چار ہزار اساتذہ کا  دوہزار اٹھارہ میں تعیناتی کے باوجود مستقل نا ہونے پر   احتجاج۔

اساتذہ نے کراچی  پریس کلب سے وزیراعلی ہاوس جانے کے لئے پیش قدمی  شروع کردی۔

پولیس اہلکاروں  نے نعرے لگاتے  آگے بڑھنے والے اساتذہ کو  رکاوٹیں لگا کر ،،، روک لیا۔

پولیس نے   لاٹھی  چارج بھی کیا ،،،اور  متعدد اساتذہ کو حراست میں لے کر موبائل میں ڈال دیا۔

اساتذ ہ کا کہنا تھا چار سال ہوگئے ہمیں  کنفر م نہیں کیا گیا۔ہمارے مطالبات پورے کئے جائیں۔

ڈی سی جنوبی  کا کہنا تھا  حکومت سے بات چیت کے لئے اساتذہ  کو کمیٹی بنانے کے لئے  کہا ہے۔

کہا پولیس نے تشدد کیا،، تو وہ جواب دہ ہے۔زیرحراست اساتذہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔