سندھ میں عالمی بینک کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے نو کروڑ
بیس لاکھ ڈالر کی رقم سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کرنے کا فیصلہ۔
وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد کے لئے نئی ٹیکنالوجی کے تحت
مکانات تعمیر ہونے چاہیں۔
اس کے لئے ورلڈ بینک سے ٹیکنالوجی اور مالی مدد درکا رہوگی۔
سندھ میں سیلا ب سے ہونے والی بڑی تباہی سے نمٹنے کے لئے بڑے فیصلے۔
وزیراعلیٰ سندھ سےکنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی
وفد کے ہمراہ ملاقات میں اہم امور پر اتفاق ہوا۔
سندھ میں زراعت و آب پاشی کے منصوبوں سے اسی لاکھ ڈالر سیلاب
متاثرین کی امدادی سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔
ورلڈ بینک
کے ایس آر پی کے،، پی ڈی ایم
اے کمپوننٹ کے دو کروڑ، بیس لاکھ
ڈالر خیموں اور مشینری کی خریداری
کے لیے دینے کی منظوری دی گئی۔
کلک
پراجیکٹ کے دو کروڑ، ستر لاکھ
ڈالربھی فلڈ ریلیف میں استعمال کئے جائیں
گے۔
بلدیاتی
حکومت کے مختلف منصوبوں سے بھی تین
کروڑ پچاس لاکھ ڈالر سیلاب متاثرین کے لئے خرچ کرنے کی
منظوری دی گئی۔
مجموعی طورپر
عالمی بینک کے مختلف منصوبوں سے نو کروڑ
بیس لاکھ ڈالر فلڈ ریلیف کے لئے
کام میں لانے کا فیصلہ ہوا۔
وزیراعلی
سندھ کا کہنا تھا کہ بارشوں میں پندرہ لاکھ گھر تباہ ہوئے۔ بھٹے ڈوب گئے اس لئے مقامی اینٹوں
کا ملنا مشکل ہے۔
اب گھر
نئی ٹیکنالوجی سے تعمیر کیے جائیں تاکہ موسمی اثرات
کو برداشت کرسکیں۔
تعمیر کے لئے فلائی ایش برکس یاہولو
انٹرلوکنگ برکس استعمال کئے جائیں۔
اس تمام عمل میں ورلڈ بینک سے ٹیکنالوجی اور مالی مدد درکا ہوگی۔
وزیراعلی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں گائوں ، دیہاتوں
سے پانی کی نکاسی کرکے اُن کو
خشک کریں گے۔
پھر
گھروں کی تعمیر شروع ہوگی۔