کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز آؤٹ آف کنٹرول ہوگئے۔۔۔6روز میں دوران لوٹ مار 10افراد کی جان لے لی،15 سے زائد زخمی کردئیے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

 کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز آؤٹ آف کنٹرول ہوگئے۔۔۔6روز میں دوران لوٹ مار 10افراد کی جان  لے لی،15 سے زائد زخمی کردئیے۔

 

کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز آؤٹ آف کنٹرول ہوگئے۔۔۔6روز میں دوران لوٹ مار 10افراد کی جان  لے لی،15 سے زائد زخمی کردئیے۔

کراچی پولیس چیف کے اسٹریٹ  کرائم میں کمی کے دعوے۔سی پی ایل سی کے اعدادو شمارنے پولیس چیف کے مؤقف پر سوال اٹھادئیے۔۔۔رواں سال اسٹریٹ  کرائم کی وارداتیں 58ہزار تک جا پہنچی ہیں

ستمبر کراچی والوں کے لئے ستمگر بن گیا ۔

  لٹیرے  بےلگام ہوگئے۔

چھ روز کے دوران سڑکوں پر 10افراد  سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ۔

گاڑی۔۔۔ موٹرسائیکل ۔۔۔ موبائل فون  ۔۔۔اسٹریٹ کرمنلز کچھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔۔۔مزاحمت پر بے خوف گولیاں بھی چلا رہے ہیں۔

دوسری جانب کراچی پولیس چیف  اسٹریٹ کرائم میں مسلسل کمی   کے دعوے کرتے نظر آرہے ہیں۔۔۔کہتے ہیں حالیہ واقعات کی نوعیت ایسی تھی جس سے جرائم کی شرح میں اضافے کا تاثر ابھرا ۔

تواتر کے ساتھ ورداتوں میں کمی آئی ہے لیکن جو وارداتیں ہوئی ہیں ان کی نیچر ایسی تھی واقعات ایسے تھے کہ شہریوں اور میڈیا کو ایسا لگ رہاہے کہ کرائم زیادہ ہورہاہے

دوسری جانب ادارہ سی پی ایل سی کے اعدادوشمار نہ صرف کراچی پولیس چیف کے دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں بلکہ شہریوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا رہے ہیں۔

ریکارڈ بتاتا ہے کہ رواں سال یکم جنوری سے چھ ستمبر تک شہر میں دوران لوٹ مار 72افراد قتل کئے جا  چکے ہیں۔۔۔8ماہ کے عرصے میں کراچی والوں کی33ہزار 730 موٹرسائیکلیں چوری جبکہ 3ہزار 285 اسلحے کے زور پر چھینی جا چکی ہیں۔۔

۔شہریوں کو سڑکوں پر اسلحہ دکھا کر 19ہزار 321 موبائل فونز سے محروم کیا گیا، صرف یہی نہیں کراچی والوں کی 1ہزار 392 گاڑیاں چوری اور 108 چھینی جا چکی ہیں۔

سی پی ایل سی ذرائع کے مطابق ماہ اگست میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں کے سابقہ ریکارڈ بھی   ٹوٹ گئے  اور 4ہزار 869 وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔  کراچی پولیس چیف  دعویٰ کرتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے کے لئے شاہین فورس کے قیام سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ،جلد مژبت نتائج ملیں گے۔