سندھ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے آثار قدیمہ پر
پڑنے والے اثرات پر سیمینار منعقد کیا گیا ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد
علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں امداد نہیں ماحولیاتی انصاف کے تحت نقصان کا معاوضہ درکار
ہے ۔
آثار قدیمہ کی بحالی کے لئے
14 ارب ڈالر درکار ہیں ۔
کراچی آرٹس کونسل میں منقعدہ سیمینار سے خطاب
کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مصر میں
ہونے والے سی او پی 27 اجلاس میں پاکستان نے شرکت ایک مؤثر قدم تھا وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نےماحولیاتی انصاف کے مطالبے
کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔
(ہمیں امداد کی نہیں معاوضے کی ضرورت ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک
کی ترقی کی قیمت ہم نے ادا کی ہے)
ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم لاشاری کا کہنا تھا
کہ پاکستان نے موسیمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں نقصان اٹھایا ہے ۔
سندھ او ملک میں موجود آثار قدیمہ
کو محفوظ بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پالیسیاں بنانا ہوں گی۔
نقصان تو ہو گیا لیکن ، ہمیں یعنی وفاق اور صوبائی
حکومتوں کو پالیسیاں بنانا ہوں گی
سیمنار کے شرکاء کو بارش اور سیلاب کے دوران صوبے
میں موجود آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے ڈاکیو منٹری بھی دیکھائی گئی