کراچی میں جان لیوا جرثومہ نگلیریا زندگیاں نگلنے لگا۔ ایک ہفتے میں نگلیریا سے متاثر تین شہریوں کی جان چلی گئی۔
محکمہ صحت نے شہر کو فراہم کردہ پانی میں کلورین شامل کرنے کی ہدایت کردی۔
کراچی میں دماغ کھانے والے جرثومے نگلیریا فاؤلیری کا تیزی سے پھیلاو۔ محکمہ صحت سندھ کےمطابق جاں بحق انیس سالہ نوجوان میں بھی نگلیریا کی تشخیص ہوئی ہے۔
صدر کا رہائشی نوجوان پیشے سے مزدور تھا،،اور ستائیس مئی کو اسپتال میں داخل ہوا تھا۔
مریض کو سردرد ، بخار اور متلی کی شکایات تھیں۔ دوسری جانب شہر میں ایک ہفتے کے دوران نگلیریا سے تین افراد کی اموات کے بعد محکمہ صحت سندھ نے بلدیاتی اداروں سے رابطہ کرلیا۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ شہر میں پانی کی فراہمی کرنے والے چینلز میں کلورین شامل کی جائے۔ نگلیریا فاؤلیری دماغ کھانے والا جرثومہ ہے جو کلورین کے ذریعے ختم ہوسکتا ہے۔
مرض کی علامات میں تیز بخار، متلی، سردرد شامل ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کےمطابق کراچی میں ایک ہفتے کے دوران نگلیریا سے جاں بحق افراد کا تعلق قیوم آباد، سرجانی اور صدر کے علاقوں سے تھا۔ گزشتہ سال نیگلیریا سے پانچ اموات ہوئی تھیں۔