عوامی منصوبوں میں حکومتی دلچسپی کا پول کھل گیا۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

عوامی منصوبوں میں حکومتی دلچسپی کا پول  کھل گیا۔

عوامی منصوبوں میں حکومتی دلچسپی کا پول  کھل گیا۔ سندھ کے گزشتہ مالی  سال کے بحٹ میں مختص ترقیاتی بجٹ    کی چالیس فیصد  رقم یونہی  پڑی رہ گئی۔ غیرترقیاتی بجٹ کی چھیانوے فیصد رقم   استعمال ہوگئی۔


بجٹ دستاویز کے مطابق  مالی سال دو ہزار بائیس ، تیئس کےلئے   تین کھرب، بتیس ارب، سولہ کروڑ، پچاس لاکھ کا  ترقیاتی بجٹ تھا۔ اس میں سے  دو کھرب، ایک  ارب، اکیاون کروڑ، پچاس لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ مالی سال میں  چار ہزار سے زائد  ترقیاتی منصوبے رکھے گئے تھے۔ ان میں  پچیس سو سے زائد جاری  اور  سولہ سو سے زائد  نئے ترقیاتی منصوبے تھے۔  اس طرح  دوہزار بائیس، تیئس کے دوران  ترقیاتی کاموں کے لئے رکھی گئی  ایک  کھرب، تیس ارب،  پینسٹھ کروڑ کی رقم بچ گئی۔


دوسری جانب  بجٹ میں  غیرترقیاتی بجٹ کے لئے مختص  چھیانوے فیصد رقم خرچ ہوگئی۔ غیرترقیاتی بجٹ بارہ کھرب، نوے لاکھ، اکیس کروڑ روپے تھا۔ اس میں  سے گیارہ کھرب، چھیالیس ارب ، تین کروڑ روپے خرچ ہوگئے۔ ملازمین کی تنخواہوں پر چار کھرب سے زائد اور  پینشن پر  ایک کھرب اسی ارب سے زائد  خرچ کئے گئے۔ ٹوٹل نان سیلری بجٹ پر پانچ کھرب ، اڑتالیس ارب سے زائد کی رقم  خرچ  ہوئی۔