کراچی میں بھاری بھرکم بلوں نے گھریلوصارفین ہی نہیں کمرشل صارفین کے بھی ہوش اڑا دیئے۔
سات سو سے زائد سرکاری اسکولوں کے مجموعی بل پچاس فیصد اضافے سے ایک کروڑ اکیانوے لاکھ سے تجاوز کرگئے۔
شہر کے ایک سو چالیس سےز ائد سرکاری کالجوں کےبل بھی بڑھ کر ایک کروڑ پانچ لاکھ بڑھ گئے۔
ڈائریکٹرکالجزشاداب حسین کےمطابق گزشتہ ماہ کی نسبت رواں ماہ کالجوں میں بجلی کےبل غیرمعمولی اضافےکےساتھ وصول ہورہےہیں۔
کراچی میں کالجزکی مجموعی تعداد 140 سےزائدہےجہاں اضافی بلنگ،،میٹرنہ ہونےپرایوریج بلنگ سمیت دیگر شکایات کے سبب اضافی بل موصول ہورہےہیں۔
محکمہ فنانس کےایڈیشنل ڈائریکٹرکےمطابق کراچی کےکالجوں کو1 کروڑ5 لاکھ 93 ہزار661 روپےکےبل موصول ہوئےہیں۔
دوسری جانب ڈائریکٹراسکول ایجوکیشن یارمحمد کےمطابق کراچی کے7سوسےزائد اسکولوں میں بجلی کےبل 50 فیصد زیادہ موصول ہوئےہیں۔
مجموعی رقم1 کروڑ 91 لاکھ سے12 ہزار922 سےزائدہے۔
جبکہ ایک سال سےزائد نئےمیٹر اور ٹیمپرزمیٹرزسمیت کنڈوں کےسبب بجلی معطلی کی درخواستوں پرعمل درآمدکے الیکڑک حکام کی جانب سےبغیرکسی عذرکےالتوا کا شکارہے۔
ڈائریکٹراسکول ایجوکیشن یارمحمد بالادی کہتے ہیں کہمس ایپروپری ایشن یہ ہےکہ میٹرنہیں ہےاوبلنگ ہورہی ہے،
اوردن کولائٹ نہیں ہوتی ہےجوہمارا کام والا ٹائم ہےبچوں کی پڑھائی والاکام ہےصبح ساڑھے8 بجےسےڈیڑھ بجے 2 بجے تک اس دوران لائٹ نہیں ہوتی،
776 پرائمری اور4 ہنڈریڈ 28 سیکنڈری اورہائرسیکنڈری اسکول ہیں انکےیونٹ جو آرہےہیں
وہ ہیں 4 لاکھ 48 ہزا202، اورکاسٹ نیٹ پیمنٹ جوہم کررہےہیں
وہ ہم کررہےہیں 1 کروڑ91 لاکھ 12ہزار922 روپے