ہم موقف پر قائم ہیں ،کوئی اور قائم نہیں تو مجھے خطرناک منظر نظرآرہاہے

عرفان علی عرفان علی

 ہم موقف پر قائم ہیں ،کوئی اور  قائم نہیں تو مجھے خطرناک  منظر نظرآرہاہے

اسلام آباد میں بلاول بھٹو سپریم کورٹ آمد کے موقعہ پر کہا کہ 

ذوالفقارعلی  بھٹو ریفرنس  کیس میں 

قصاص نہیں انصاف مانگ  رہاہوں ،
فیصلہ آیا تومستقبل میں عدلیہ ہویا کوئی اور ادارہ  ایساجرم نہیں دہرائےگا،
میں  نے اسٹیبلشمنٹ   کاسہارانہیں لیا،الزام سے پہلے ثبوت پیش کریں،
ثبوت دیاجائے اگرمیں نے کسی چیز  کا سوداکیا،
میں نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کی ،
تحریک عدم اعتماد  سے متعلق بیان پر مولانا فضل الرحمان  سے ہی پوچھا جائے،
سیاسی اسٹیک ہولڈرزکوپارلیمانی نظام  بچانے  کےلیے مل بیٹھ کر فیصلہ کرناپڑے گا،
ن لیگ کو عوام نے مینڈیٹ دیاتو ان کو بھی باقی جماعتوں سے ملنا پڑے گا،
 پی ٹی آئی    کی اکثریت ہے تو وہ کہتی ہے کسی سے بات نہیں کرنی،
پی ٹی آئی  جب  بات نہیں کرےگی تو وہ حکومت  نہیں بناسکتی ،بلاول بھٹو
ن لیگ کو ووٹ دیناہے تو میں اپنی شرائط پر دوں گا،
ہم موقف پر قائم ہیں ،کوئی اور  قائم نہیں تو مجھے خطرناک  منظر نظرآرہاہے،
الیکشن میں عوام کو کسی ایک کو اختیار نہیں دے رہے ہیں،
مذاکراتی کمیٹی کی ناکامی ہے کہ اب تک معاملات  طے نہیں ہوئے،
ملک میں   زیادہ تر وقت آمریت کا ہی رہاہے ،
امیدہے آئین کے بانی کو  اعلیٰ عدلیہ سےانصاف ملے گا،
ایک قتل ہوا،کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ 10یا20سال گزرگئے انصاف نہیں ہوسکتا،
یہ ریفرنس  تاریخ درست کرنے کا ایک موقع فراہم کررہاہے،بلاول بھٹو
تاریخ درست کرنے کے لیے  ججز فیصلے کریں گے ،
امیدہے            فیصلے  کی وجہ سے ادارے پر جوداغ  ہے وہ دھو یاجائے گا،
بینظیر بھٹوکا خواب تھا کہ والد کوانصاف دلائیں،
کیس میں فیصلے سے ایک لکیر کھینچی جاسکے گی  کہ جوہواوہ غلط تھا