آزاد جموں اور کشمیر اور گلگت، بلتستان میں ٹیلی کمیونی کیشن کی سہولیات فراہم کرنے والے سرکاری ادارے، ”اسپیشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن“ (SCO)، ”ون نیٹ ورک پرائیوٹ لمیٹڈ“، ”فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن“(FWO) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ”سائبر نیٹ“ پاکستان میں فکسڈ لائن ٹیلی کمیونی کیشن کی سہولت فراہم کرنے والی لیڈنگ فرم نے اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز کرتے ہوئے، ایک سہہ فریقی MoU پر دستخط کئے ہیں۔
جس کے تحت تمام فریق مل کر ایک ایسا روٹ تیار کریں گے جو، چین کے تیزی سے پھیلنے والے ڈیجیٹل ٹریفک کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ، ہمسایہ ممالک میں بین الاقوامی رابطے یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔
ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے کے عہد کو پورا کرنے میں ”اسپیشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن“ (SCO) کے نیٹ ورک کا انفرااسٹرکچر، پاکستان کے انتہائی شمالی علاقہ جات میں ”ٹیلی کمیونیکیشن سروسز“ کی توسیع میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس اشتراک کے نتیجے میں SCO کے وسیع نیٹ ورک کی صلاحیت ”ون نیٹ ورک“ اور ”سائبر نیٹ“ کے طویل فاصلوں تک پھیلے ہوئے فائبر آپٹک انفرا اسٹرکچر کے ساتھ جڑ جائے گی۔ سب کا مشترکہ مقصد، خنجراب سے براستہ راولپنڈی سے کراچی میں موجود ”سائبر نیٹ“ کے کیبل لینڈنگ اسٹیشن تک ایک طویل زمینی راستہ قائم کرنا ہے۔
یہ انفرااسٹرکچر، سمندروں میں موجود متعددذیلی کیبلز کے ذریعے، یورپ، مشرقی ایشیا اور افریقہ کے درمیان ٹرانزٹ روٹس کو فعال بنائے گا۔ معاہدے کی تقریب میں SCO کے ڈائریکٹر جنرل (DG)، ”ون نیٹ ورک“ کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (CEO)، ”ون نیٹ ورک“ کے ہیڈ آف بزنس اور ”سائبر نیٹ“ کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (CEO) نے شرکت کی۔ یہ اتحاد، ایک مختصر، قابل اعتماد اور کم تاخیر(Low Latency) والے راستے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم، ٹیلی کمیونیکیشن ٹرانزٹ کی بنیادی سہولت فراہم کرے گاجس کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
SCOکے DG نے اس بات کی اہمیت کو اُجاگر کیا کہ، 'پاکستان، اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے علاقائی رابطے کا مرکزمانا جاتا ہے۔ پاکستان سے چین اور وسط ایشیائی ممالک (CAR) کو بحیرہ عرب تک رسائی کے لئے مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے دائرے میں، پاکستان، چین اور وسط ایشیائی ممالک کو مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ)، افریقہ اور یورپ سے جوڑنے والے بہترین انٹرنیٹ لنکس کا حامل ہے.یہ پاکستان کے لئے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والے، ڈیجیٹل راستے کے طور پر ابھرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے،
جس سے ملک کیلئے کثیر زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی حاصل ہوں گے“۔ ون نیٹ ورک کےCEO نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”ہم اس شراکت داری کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں۔ یہ معاہدہ، ملک گیر اور سرحد پار ڈیجیٹل کنیکٹی ویٹی کو بڑھانے کے ہمارے عزم کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ہمارا مقصد پاکستان بھر میں بہترین نتائج فراہم کرنے صلاحیتوں کے حامل ہمارے، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی مدد سے، پاک۔ چین ڈیجیٹل کمیونیکیشن کوریڈور کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے“۔
ون نیٹ ورک کی بزنس ہیڈ نے اس موقع پر مزید بتاتے ہوئے کہا، ”یہ MoU ہمارے ارادوں اور کوششوں کا ایک عملی ثبوت ہے، جس کے ذریعے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سسٹم اور ٹولنگ کے لئے، موٹر ویز پربنائے گئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ہماری جانب سے فائبر آپٹک انویسٹمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے ہماری لگن کی نشاندہی کرتا ہے۔
ہم ہفتے کے سات دن، چوبیس گھنٹے مسلسل ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کے انفرا اسٹرکچر پر جاری رہنے والے ہائی وے آپریشنز اور مینٹی نینس فراہم کرنے کے ساتھ، علاقائی ترقی اور رابطوں کی مضبوطی کے لئے ایک الٹرا ہائی بینڈوڈتھ، ایک انتہائی کم لیٹنسی (Low Latency) رکھنے والے نیٹ ورک کے ساتھ آفر کرنے کے لئے تیار ہیں“۔
جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، اور مشرق وسطیٰ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے، یہ”پین پاکستان کوریڈور“علاقائی روابط برقرار رکھنے اور اقتصادی ترقی کیلئے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں موجود زمینی راستے بھی،پاکستان، چین اور دیگر پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت اور باہمی تعاون بہتر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔