کراچی لٹریچر فیسٹیول میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے سیاست پر اثرات

عدنان اطہر عدنان اطہر

 کراچی لٹریچر فیسٹیول  میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا  کے سیاست پر اثرات


کراچی لٹریچر فیسٹیول  میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا  کے سیاست پر اثرات کے حوالے سے مباحثہ  ہوا ۔جس میں معروف سینئر صحافی تجزیہ کار ، اظہرعباس ،عنبر رحیم شمسی اور ساست دان سینیٹر فیصل سبزواری  مباحثے میں شریک ہوئے۔ 


سینٹر فیصل سبزواری نے  کہاکہ سوشل میڈیا پر تو مکمل طور پر اخلاقیات کی کمی کا سامنا ہے صحافی کہتے ہیں میڈیا کو ہم ریگولیٹ کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوااور مجھے سوشل میڈیا پر مجبورا کمنٹس بند کرنے پڑے

انکا کہناتھاکہ مباحثہ کم ہو گیا ہے ، اب صرف یہ کہا جاتا ہے ہماری بات سنو مجھے افسوس ہے کہ قانون سازی کو روکنے کے لئے کچھ نہ کرسکا یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے ہمیں تقریر سننے اور تالیاں بجانے پر گرفتار کیا گیا 

نامور صحافی اور تجزیہ کار اظہر عباس کا کہناتھاکہ حکومت نے کہا ہماری نیت پر شک نہ کریں ، ہم نے کہا آپ کی نیت پر ہی تو شک ہے میڈیا کے لئے اصول و ضوابط ہونے چائیں

سوشل میڈیا نے عام آدمی اور سیاستدانوں کے درمیان ایک رابطہ قائم کیا ہے میرا یہ ماننا ہے کہ لوگوں نے کبھی غلط ووٹ نہیں دیا معاشرے کا بگاڑ ، سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے ریٹنگ لانا یا نہ لانا غلط بات نہیں ہے ریٹنگ کے لئے کچھ سنسنی پھیلانا غلط ہےسینئر صحافی امبر شمسی نے کہاکہ سوشل میڈیا کے لئے جو قوانین بنائے جا رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہمیں انفرادی طور پر رجسٹرڈ ہونا ہوگا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بجائے افراد کو سزا دینے کی بات کی جارہی ہے کیا سچ بولنے سے لوگوں کا نقصان نہیں ہو رہا فیک نیوز کے ساتھ ساتھ تنقید کو بھی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے شہزاد غیاث شیخ ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے کہاکہ سوشل میڈیا کو پہلے عوامی چوراہا سمجھا جاتا ہے سوشل میڈیا پر بھی سنسنی خیزی راج کر رہی ہے یوٹیوب پر بھی توجہ حاصل کرنے کے لئے ایسے ہے تھمب نیل بنائے جاتے ہیں.