کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفی اغوا و قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا

عرفان علی عرفان علی

  کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفی  اغوا و قتل کیس میں  مرکزی ملزم  ارمغان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا


 کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفی  اغوا و قتل کیس میں  مرکزی ملزم  ارمغان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزم   کمرہ عدالت میں بے ہوش ہوگیا۔ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت  کے منتظم جج کا  فیصلہ  کالعدم قرار دے کر،، کیس اے ٹی سی  ٹو میں پیش کرنے کا حکم  دیا تھا۔


ملزم ارمغان کو انسداد دہشت گردی عدالت نمبر دو میں پیش  کیا  گیا۔پراسیکیوٹر نے ہائی کورٹ کا آرڈر پر کر سنایا۔ عدالت نے ملزم سے پوچھا کیا نام ہے۔ کب سے جیل میں ہیں۔ ارمغان نے  کہا مجھے مارا گیا ہے۔ملزم نے وکالت نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت کے پوچھنے پر  تفتیشی افسر نے بتایا باڈی مل گئی ہے۔ قبر کشائی کا آرڈر بھی  ہوگیا۔آلہ قتل برآمد کرنا ہے۔ اس دوران  ملزم ارمغان کمرہ عدالت میں بے ہوش ہوگیا۔ سرکاری وکیل نے بتایا ملزم میڈیکلی فٹ ہے۔دو گھنٹے پہلے ہائی کورٹ میں  پیش کیا تھا۔ وہاں معائنہ بھی ہوا ہے۔ طبیعت ٹھیک تھی۔ ملزم کو کمرہ عدالت میں صوفے پر لٹا دیا گیا۔ اے ٹی سی  نے  ملزم ارمغان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزم ارمغان کو بے ہوشی کی حالت میں عدالت سے  نکال کر اے  پی سی میں ڈالا گیا۔ اس سے قبل سندھ  ہائی کورٹ  نے ملزم ارمغان کے  جسمانی  ریمانڈ کی چاروں درخواستیں منظور کر کے  انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج کا   فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا ۔پولیس نے  فیصلے کے خلاف درخواست  دائر کی تھی  ۔منتظم جج نے پولیس کی درخواست کے باوجود ملزم کا  پولیس ریمانڈ نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب   مصطفی کی قبر کشائی کے لیے تین رکنی  بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔اکیس فروری کو  پولیس سرجن کراچی کی سربراہی میں قبرکشائی ہوگی۔قبر کشائی جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی موجودگی میں کی جائے گی۔