محکمہ موسمیات میں قائم نیشنل سونامی سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی زلزلوں کی تین پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

محکمہ موسمیات میں قائم نیشنل سونامی سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی زلزلوں کی تین پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔

محکمہ موسمیات میں قائم نیشنل سونامی سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی زلزلوں کی تین پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔ کراچی سے مکران تک کی ساحلی پٹی پر زلزلوں اور سونامی کے خطرات موجود ہیں۔۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مکران کی ساحلی پٹی پر دس سال میں کبھی بھی سونامی آسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مکران کی ساحلی پٹی پر فالٹ لائن میں خاصی توانائی جمع ہوچکی ہے،، یہ توانائی کسی بھی وقت زلزلہ لاسکتی ہے ،، جو سونامی کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین موسمیات بتاتے ہیں کہ مکران کے ساحل کے سبڈکشن زون پر 8 یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ آسکتا ہے جو کراچی اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔ وقت کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ماہرین کے مطابق سن 1944 میں بھی زلزلہ اور پھر سونامی آیا تھا جس کے نتیجے میں 4 ہزار اموات ہوئی تھیں۔ یہ فالٹ لائن اب اپنا قدرتی ٹائم اسکیل مکمل کرچکی ہے۔  محکمہ موسمیات نے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کے 5 مقامات پر ارلی وارننگ سسٹم بھی لگائے ہیں۔ کراچی سے گوادر تک سونامی ڈرلز بھی کی گئی ہیں

کراچی جن تین پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے ان میں عربین پلیٹ عمان، مسقط ۔۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی یعنی پسنی ، گوادار اور مکران۔۔ جبکہ انڈین پلیٹ یعنی کراچی شامل ہے۔ماہرین موسمیات نے ساحل کے قریب رہنے والے شہریوں اور ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نقل مکانی سے زیادہ محفوظ مقامات پر پناگاہیں تلاش کریں۔ ساتھ ہی شہروں میں بھی زلزلے کی شدت کا خیال ذہن میں رکھتے ہوئے گھر بنائیں۔