کراچی کےعلاقے پی آئی بی کالونی میں تین منزلہ عمارت ٹیڑھی ہونےکےبعدعقب والی عمارت پرگرگئی

عدنان اطہر عدنان اطہر

کراچی کےعلاقے پی آئی بی کالونی میں تین منزلہ عمارت ٹیڑھی ہونےکےبعدعقب والی عمارت پرگرگئی

کراچی کےعلاقے پی آئی بی کالونی میں تین منزلہ عمارت ٹیڑھی ہونےکےبعدعقب والی عمارت پرگرگئی۔۔۔حادثےکےنتیجے میں ملبےتلےدبنےوالی دوخواتین   کی لاشوں کو نکال لیاگیا۔۔۔سات سالہ بچہ بھی حادثے میں زخمی ہوا۔تاحال ریسکیوکاعمل جاری ہے۔

کراچی کےعلاقے پی آئی بی  کی غوثیہ کالونی میں واقع تین منزلہ عمارت ٹیڑھی ہونےکےبعدعقب والی عمارت پرجاگری۔

عمارت گرنےکی اطلاع ملنےکےفوری بعدریسکیوادارےکی ٹیمیں پولیس اوررینجرزموقع پرپہنچیں

پولیس حکام کےمطابق عمارت میں پانچ بھائی اپنےاہل خانہ کےہمراہ رہائش پذیرتھے۔

گزشتہ شب عمارت ایک جانب جھکنےکےبعد مکین محفوظ مقام پرمنتقل ہوگئےتھے۔

دوخواتین عمارت میں موجود سامان نکالنےکےلیےپہنچی تو عمارت گرگئی۔

عمارت گرنےکےبعدملبےتلےدبنےوالی دوخواتین کی لاشوں کونکال لیاگیا۔

جن کی شناخت ریما اور فوزیہ کےناموں سےہوئی۔

متاثرہ خاندان اورعلاقہ مکینوں کاکہناہےعمارت میں دراڑیں پڑھنےکےبعد عمارت خالی کرنےکاکام جاری تھا۔

متاثرہ شخص ۔۔۔ابھی خالی کررہےتھے۔۔۔سامان لیکرنیچے آرہے تھے کہ اچانک گرگئی۔۔۔

پڑوسی۔۔۔کافی سارا مکان یہ لوگ خالی کرچکے تھے۔۔۔کچھ کپڑے وغیرہ اٹھانےانکی بہنیں ابھی آئی تھی۔

ایم کیوایم تنظیم بحالی کمیٹی کےسربراہ فاروق ستارنےجائےحادثہ کادورہ کیا۔

میڈیاسےگفتگومیں  کہاکہ متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے غیرقانونی تعمیرات کی جاتی ہے۔

فاروق ستار۔۔۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ذمہ داری ہے اس طرح کی  ناقصد تعمیرات کوروکنا۔۔۔اس طرح کی غیرقانونی تعمیرات کوروکنا۔۔۔اس  طرح کی چالیس گزکےپلاٹ پر تین منزلہ تعمیرات کیسے بنیں گی۔

ریسکیورضاکاروں سمیت ضلعی انتظامیہ کی جانب سےبھی گرنےوالی عمارت میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔