کراچی ، عمران
موت کی سولی چڑھنے سے پہلے وہ ضرور ارمانوں کی سولی پر چڑھا ہوگا،،،،
اس کے بھی کچھ خواب ہونگے جو اسے راتوں کو سونے نہیں دیتےہونگے۔
خواہشوں کی تکمیل کے راستے میں جسم اور روح کے زخم چھلنی ہوجاتے ہیں،
اور ایک مقام ایسا بھی آتاہے کہ روح کے رستے زخم کوئی دیکھ نہیں پاتا،
بس انسان اپنی ٹھنڈی آہوں اور ٹیسوں کو دل ہی دل میں محسوس کرتاہے۔
نفسیاتی الجھن کا شکار انسان اپنے دل کی بات ایک مقام پر آکر کسی سے کہہ بھی نہیں پاتا۔
پھر وہ گھڑی آن پہنچتی ہے جس میں وہ سمجھتاہے اب شاید سب کچھ ختم ہوگیاہے،
بہتر ہوگا، اچھاہوگا ،حالات بدلے گے زندگی میں کوئی روشنی کی کرن آئی گی یہ سب کچھ ایک بند دروازے کی مانند اسےنظر آتاہے۔
پھر وہ دنیا کی مصلحتوں سے تھک کر دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں زندگی بھی کھوہ دیتاہے ۔
جس کے ہوتے ہوئے آنکھوں میں کئی خوبصورت خواب تھے،
اور آخر میں وہ ساری حسرتیں خواہشیں جاگتی آنکھوں سے اس دنیا کو سپرد کرکے چلاہی جاتاہے۔
ہم ایک دوسرے کو آج تک سمجھ ہی نہیں پائے ہیں کس کے کیا مسائل ہیں وہ کیوں پریشان ہے؟
بس ہم سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے کہ میرا سب
کچھ ٹھیک ہوجائے باقیوں سے کیا لینادینا،،،،
اخترایسوسی ایٹ پروڈیوسر تھے نجی ٹی وی چینل میں،،،،
میں انہیں نہیں جانتا نہ ہی کبھی ہماری ملاقات ہوئی نہ ہی کبھی ذکر ہوا ہے،
اس کالیکن واٹس ایپ گروپ میں چلنے والی اس کی تصاویر مجھ سے ان گنت سوال پوچھے جاتی ہیں ۔
شاید معاشی حالات کے علاوہ اس کے حالات ہم سے ملتے جلتے ہوں،
انسانی رویوں کی بے حسی اور پھر نفسیاتی طور پر انسان کبھی کبھار ٹوٹ جاتاہے،
اسے ضرورت ہوتی ہے کسی سے بات کرنے کی اپنے دل کی ساری باتیں کہنے کی ،
اپنا غبار نکالنے کے لیے کوئی تو ہو جس سے بات کی جائے اسےاپنا سجھا جائے۔
لیکن واٹس کےایپ کے اس دور میں انسان ایک دوسری سے دور ہوتا جارہاہے اتنا دور کے جس میں فاصلے ناپنے کااب تک کوئی آلہ دریافت نہیں ہوسکا ہے۔
میں سوچتا ہوں وہ تھک گیا ہوگا ، ایک لمحے کے لیے ہمت ہار گیا ہوگا ۔اس کے خواب بکھرے ہونگے ،
وہ لازمی ٹوٹا ہوگا لیکن کیا اس کے آفس میں اس کے گھر میں اس کے ارد گرد کوئی بھی ایسا شخص یا انسان نہیں تھا،
جس سے وہ کچھ کہہ سکے کچھ سن سکےاور آخر میں خود سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کے بعد خودہی اس نے فیصلہ کرلیا ہوگا،
اب زندگی سے راہیں جدا کرلیتے ہیں ہم الگ ہوجائےگے تو سب ٹھیک ہوجائےگا،
لیکن انسان خود تو مرجاتاہے اپنے ساتھ آس پاس رہنے والے کئی لوگوں کو مٹی میں جانے سے پہلے ہی مٹی میں ملا جاتاہے ۔
اس کی بوڑھی اماں فالج کے مرض میں لاحق ہے ۔
کبھی کبھار سوچتاہوں ان کی کیا کیفیت ہوگی کیسے جی رہی ہوگی ایک جوان بیٹے کا اب غم صرف مرجانے کا نہیں بلکہ خودکشی کا ہے یہ ایک ایسا لمحہ ایک ایسی پریشانی ہے وہ چاہ کر بھی اس سے نہیں نکل سکتی ہے کہ ان کا بیٹا کس غم میں اس دنیا سے کیسے رخصت ہوا ۔
ماں جس نے اتنے چاہ وہ پیار سے ایک چھوٹے بچے کو جوانی کی دہلیز پر پہنچاتی ہے کیا کیا ارمان اس کے دل میں اپنے اس بیٹے کے لیے نہیں ہونگے،
لیکن بعض دفعہ انسان اتنا کمزور ہوجاتاہے کہ اسے سوائے اندھیرے کے کچھ نظر نہیں آتا ہے ہمیں اپنے رویوں پر سوچنا ہوگا اپنے طریقہ کار پرنظر ڈالنی ہوگی ہم سے ہمارے پیارے اتنی آسانی سے کیسے بچھڑ رہے ہیں اس بات پر غور کی ضرورت ہےاگر سب مشکلوں سے تنگ آکر اسی راستے پر چلتے گئے تو آخر میں کیا بچ جائےگا ۔
ایک دوسرے کے ساتھ رہے پاس رہے سنے ایک دوسری کی باتیں نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کو الجھنوں سے نکالنے کی کوشش کریں،
اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ورنا یہ فاصلہ کبھی گھٹنے کا نہیں ہے۔
کل پھر کوئی اختر زندگی کے مشکلوں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دے
۔