قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن بننے لگے ہیں


قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن  بننے لگے ہیں

 

کبھی رشوت وصولی، کبھی منشیات اسمگلنگ کا الزام   تو کبھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ ۔ کراچی میں  پولیس وردی  کا ناجائز استعمال کرنے کے بڑھتے واقعات  نے محکمے میں احتساب کے عمل سمیت کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔  

قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن  بننے لگے ہیں۔

کبھی اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ، کبھی انسداد تجاوزات سیل تو کبھی آپریشن پولیس۔

قانون شکنی  میں کوئی پیچھے نہیں۔

کراچی میں محکمہ انسداد تجاوزات سیل  ضلع کورنگی کے انچارج نے مبینہ طور پر شہری کو اغواء کرکے تاوان وصولی کے بعد رہا کیا تو متاثرہ شخص اعلیٰ حکام کے پاس جا پہنچا  اور مقدمے کے اندراج کی درخواست کردی۔

چند روز  قبل کراچی کے  تھانہ سچل میں بھی سندھ پولیس کے شعبہ ریپڈ رسپانس فورس کے ڈی ایس پی فہیم فاروقی اور ساتھیوں پر شہری  کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کا پرچہ کٹ چکا ہے۔

اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ کے بھی  تین پولیس افسروں  اور دو اہلکاروں سمیت  چھ افراد مبینہ طور پر چوری شدہ65 تولہ سونا   بطور رشوت وصول کرنے کے الزام میں قانون کی گرفت  میں آچکے ہیں۔

 نبی بخش پولیس نے بھی حال ہی  میں    مال بردار ٹرک چھیننے  میں ملوث سابق اور موجودہ پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔

کراچی ہی نہیں جام شورو پولیس کی بھی قانون شکنی کا تازہ واقعہ    منظر عام پر آ یا ہے

 جس میں  کراچی، بوٹ بیسن  سے رینجرز وپولیس نے جام شورو پولیس کی موبائل سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی ہے۔

 مہران یونیورسٹی کے قریب مزدا ٹرک سے برآمد کی گئی  منشیات کو  جام شورو پولیس  مبینہ طور پر    اسمگلر ز کو سونپنے جارہی تھی۔

رواں سال  پانچ  جون کو  محکمہ پولیس میں  احتساب بیورو   تشکیل دیا گیا تھا،،لیکن باوردی افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کے پے در پے واقعات  پر  کیا یہ  بیورو فعال ہوا اور اس  نے  کوئی   کارروائی کی  ،،  تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

چہرہ نیوزنےمحکمہ پولیس میں سربراہ احتساب بیوروایڈیشنل آئی جی  فرحت جونیجوسےموقف جاننےکےلیےرابطہ کیاتاہم  انکی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔۔۔